بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

نیپال میں وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ،صحت کے اداروں کاانتباہ

datetime 5  مئی‬‮  2015 |

کھٹمنڈو(نیوزڈیسک)نیپال میں زلزلے کے بعد ہونے والی تباہی کے بعد تباہ ہونے والے علاقوں میں کام کرنے والے صحت کے اداروں نے انتباہ کیاہے کہ نیپال میں وبائی امراض پھوٹنے کاخدشہ ہے کیونکہ نیپال میں 25 اپریل کو 7.8 کی شدت سے آنے والے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 7,000 سے زائد ہو گئی ہے ۔بین الاقوامی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ نیپال کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں رہائش اور گندے پانی کی نکاسی کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث ہیضہ، اسہال اور دیگر امراض پھوٹ سکتے ہیں۔برطانوی امدادی ادارے ڈِزاسٹرز ایمرجنسی کمیٹی (ڈی ای سی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں متاثرین کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔بارہ خیراتی اداروں پر مشتمل اس تنظیم کا کہنا ہے کہ نیپال کے زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔خیال رہے کہ نیپال میں 25 اپریل کو ریکٹر سکیل پر 7.8 کی شدت سے آنے والے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 7,000 سے زائد جبکہ زخمیوں کی تعداد 10,000 تک پہنچ گئی ہے۔اس وقت دنیا بھر سے4,000 سے زائد امدادی کارکن زلزلے کے متاثرین کی مدد میں حصہ لینے کے لیے نیپال میں موجود ہیں۔ڈی ای سی کی امدادی ایجنسیاں زلزلہ متاثرین کو ہنگامی رہائش، پینے کا صاف پانی اور گندے پانی کی نکاسی کا انتظام کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں۔برطانوی امدادی ادارے ڈی ای سی کے ترجمان نے بتایا کہ انھیں اسہال اور سینے میں انفیکشن کی متعدد رپورٹیں پہلی ہی موصول ہو چکی ہیں۔ڈی ای سی کی امدادی ایجنسیاں زلزلے کے متاثرین کو ہنگامی رہائش، پینے کے صاف پانی اور گندے پانی کی نکاسی کا انتظام کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں۔ڈی ای سی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ ابھی نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے تاہم اس ماہ کے اختتام پر مون سون کا موسم شروع ہونے سے پہلے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈی ای سی کے ترجمان کے مطابق نیپال میں ہیضے کی وبا کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ سنہ 2009 میں تین لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہوئے جبکہ گذشتہ سال یہ تعداد 600 تھی۔امدادی ادارے ڈی ای سی نے نیپال کے زلزلہ متاثرین کے لیے اب تک تین کروڑ 30 لاکھ پاونڈ سے زائد کی رقم کی اپیل کی ہے۔برطانوی حکومت نے عوامی فنڈ کے ذریعے 50 لاکھ پاونڈ فراہم کیے ہیں اور مزید مدد کی یقین دہانی کروائی ہے۔خیال رہے کہ برطانیہ نیپال کے زلزلہ متاثرین کے لیے سب سے زیادہ امداد فراہم کر رہا ہے جس کا کل حجم دو کروڑ 28 لاکھ پاونڈ بتایا جاتا ہے۔ڈی ای سی کی رکن آکسفیم بھی کٹھمنڈو کے چار کیمپوں میں صاف پانی کی فراہمی اور نکاسیِ آب کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔اسی طرح امدادی ادارے ایکشن ایڈ نےکٹھمنڈو سے باہر موجود 2,500 افراد کے لیے جراثیم کش ادویات پر مشتمل کِٹس فراہم کی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…