بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

وٹامن سپلیمنٹس کا زیادہ استعمال کینسر کا باعث

datetime 5  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وٹامن سپلیمنٹس کے حوالے سے حال ہی میں امریکن ایسوسی ایشن فار کینسر ریسرچ کی سالانہ میٹنگ میں ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دراصل وٹامن سپلیمنٹس کا زیادہ استعمال کینسر کا باعث ہوتا ہے۔ یہ تحقیق خواتین کیلئے خاص کر پریشان کن ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ فولک ایسڈ، وٹامن ای اور بیٹا کیروٹن کے کیپسول ، ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر یا مشورہ دی گئی خوراک سے زیادہ مت لیں کیونکہ اس سے کینسر کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین نے کینسر اور وٹامن سپلیمنٹس کے بیچ تعلق کو معلوم کرنے کیلئے بیس برس قبل اس وقت تحقیق کا آغاز کیا تھا جب یہ معلوم ہوا تھا کہ پھلوں کی زیادہ مقدار لینے والوں میں کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے تاہم ماہرین نے تحقیقات میں پایا کہ وٹامن سپلیمنٹس اس کے برعکس کام کرتے ہیں اور بجائے اس کے کینسر کا خطرہ کم کریں، اسے مزید بڑھا دیتے ہیں۔ وٹامن سپلیمنٹس کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہیں استعمال کرتے ہوئے کوئی فرد بھی یہ نہیں سوچتا ہے کہ یہ بھی دوا کی ایک شکل ہیں جو جسم میں ضروری غذائیت کو پورا کرنے کیلئے دی جاتی ہیں، اس کے بجائے وٹامن سپلیمنٹس کے نام پر دی جانے والی ہر چیز کو طاقت کا منبع سمجھ لیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی مقررہ خوراک سے تجاوز کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے چند عام مفروضے کچھ یوں ہیں کہ :وٹامن سپلیمنٹس کو کھانے کا نعم البدل ہرگز نہیں سمجھنا چاہئے۔ ماہرین جسم میں جب کسی خاص قسم کے غذائی اجزا یا نمکیات کی کمی کو محسوس کرتے ہیں تو اضافی سپلیمنٹ دیتے ہیں جس کا کام جسم میں توازن کو دوبارہ قائم کرنا ہوتا ہے، اسے کھانے کا نعم البدل ہرگز نہیں سمجھا جائے۔ اگر آپ کی گاڑی کا انجن مسئلہ کررہا ہے تو ایسے میں اس میں گیس ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہی حال جسم کا ہے، اگر وہ غذائی کمی کا شکار ہورہا ہے تو اسے اضافی سپلیمنٹس سے ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ تینوں ٹائم مناسب مقدار میں غزا بھی ضروری ہے۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر وٹامن سی کی مدد سے قوت مدافعت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے تو اس کی زیادہ مقدار سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے یا زیادہ مدافعت بڑھائی جاسکتی ہے تاہم ایسا نہیں ہے۔ درحقیقت وٹامن سی کی زیادہ مقدار سے ڈائریا اور پٹھے اکڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور بعض حالات میں وٹامن سی سپلیمنٹس کی زیادتی سے اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس پرو آکسیڈنٹس کے طور پر کام شروع کردیتے ہیں اور اس طرح یہ ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اعتدال کا یہ فارمولہ زندگی میں ہر شعبے میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ پانی کی بھی غیر ضروری مقدار جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔وٹامن سپلیمنٹس کو غذائیت کا قدرتی منبع تصور کیا جاتا ہے اور اس ناطے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہ قدرتی ہونے کی وجہ سے نقصان دہ اجزا سے پاک ہیں۔ اول تو یہ سو فیصد قدرتی نہیں ہوتے، دوئم یہ کہ قدرتی اجزا بھی غیر ضروری مقدار میں لینے کی صورت میں نقصان دہ بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کاوا نیند کے مسائل کا شکار لوگ لیتے ہیں۔ اس سے ذہنی تناو¿ بھی کم ہوتا ہے تاہم یہ جگر کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔وٹامن سپلیمنٹس کلی طور پر پیسے کا ضیاع بھی نہیں ہیں تاہم انہیں سپلیمنٹس کے طور پر ہی لینا چاہئے، بنیادی غذا کا نعم البدل نہیں سمجھ لینا چاہئے۔ جسم میں کمی کے علاوہ یہ اس صورت میں لینا مفید ثابت ہوتے ہیں جبکہ قدرتی ذریعے سے جسم میں کسی قسم کے وٹامنز کی ضروریات کو پورا کرنا ممکن نہ ہو۔ جیسا کہ وٹامن ڈی، پروبائیوٹکس یا پھر اومیگا تھری فیٹی ایسڈ وغیرہ تاہم ان کے استعمال میں نہ حد سے تجاوز کریں اور نہ ہی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ان کے استعمال کو عام کریں کیونکہ یہ آپ کے جسم میں وٹامنز کے توازن کو بگاڑ بھی سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…