منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کا پندرہ روز میں آئل ٹینکرز کو ذوالفقارآباد منتقل کرنے کا حکم

datetime 20  جون‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے آئل ٹرمینل کو پندرہ روز میں شیریں جناح کالونی سے ذوالفقار آباد منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں آئل ٹینکرز کی ذوالفقار آباد ٹرمینل منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ میئر کراچی وسیم اختر اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے میئر کراچی سے استفسار کیا کہ میئر صاحب، کتنے نالوں کی صفائی ہوچکی؟ بتائیں کس نالے کا دورہ کرارہے ہیں؟ اس پر وسیم اختر نے کہا کہ سر نہر خیام چلتے ہیں۔اس موقع پر وسیم اختر نے عدالت کو بتایا کہ ذوالفقار آباد آئل ٹرمینل کا ایک سال قبل افتتاح ہوچکا، آئل ٹینکر مالکان جانے کے لیے تیار نہیں ہیں،مئیر کراچی کے جواب پر صدر ٹینکرز ایسوسی ایشن یوسف شہوانی نے مؤقف اپنایا کہ ہم جانے کے لیے تیار ہیں، میئر جھوٹ بول رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے یوسف شہوانی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا میئر ہے، عزت سے بات کریں، یوسف شہوانی نے عدالت کو بتایا کہ 200 ایکڑ میں سے ہمیں صرف 130 ایکڑ اراضی دی گئی، اس پر چیف جسٹس نے وسیم اختر سے پوچھا کہ کام مکمل کیوں نہیں ہوا؟ میئر کراچی نے بتایا کہ کام مکمل ہوچکا ہے، چاہیں تو ناظر سے معائنہ کرالیں۔چیف جسٹس نے حکم دیاکہ 15 دن بعد کوئی ٹینکر شیریں جناح کالونی میں کھڑا نہیں ہوگا اورآئل ٹینکر والوں نے ہڑتال کی تو سب کو اندر کردیں گے۔عدالتی حکم پر یوسف شہوانی نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں ہو پائے گا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میاں صاحب آپ کے پاس ہر قسم کی حجت ہے، خدا کا خوف کریں کچھ حب الوطنی پیدا کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…