منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

400میٹر کی حدود میں کیمپ لگانے، لائوڈ سپیکر ، نظریہ پاکستان کے خلاف اور مذہب کے نام پر مہم چلانے پر مکمل پابندی عائد، سیاسی جماعتوں ، امیدواروں، انتخابی ایجنٹوںو پولنگ ایجنٹوں سے متعلق ضابطہ اخلاق جاری

datetime 15  جون‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی )الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں ، امیدواروں، انتخابی ایجنٹوں اور پولنگ ایجنٹوں سے متعلق ضابطہ اخلاق جاری کر دیا جس کی کاپیاںریٹرننگ افسران کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی جماعتیں امیدوار اور انتخابی ایجنٹ لوگوں کی آزادی اور حقوق کی پاسداری کریں گی جن کی آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے۔سیاسی جماعتیں امیدوار

اور انتخابی ایجنٹ انتخابات کے خوش اسلوبی سے انعقاد اورالیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق پبلک آرڈر کو بر قرار رکھنے سے متعلق الیکشن کمیشن کی جانب سے ہدایات اور قواعد و ضوابط کی پاسدار ی کریں گے۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی جماعتیں مرد اور خواتین دونوں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کیلئے برابر کے مواقع فراہم کریں گی۔ضابطہ اخلاق میں مزید کہا گیا ہے کہ امیدوار ریلیاں نکالیں گے اور نہ ہی میٹنگ میں لائوڈ سپیکرکا استعمال ہوگا۔کوئی بھی امیدوار نظریہ پاکستان ، قومی سالمیت کے خلاف اظہار خیال نہیں کر سکتا۔الیکشن کمیشن کو بد نام کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی ہو گی ۔ضابطہ اخلاق کے مطابق مذہب کے نام پر مہم چلانے پر مکمل پابند ی ہو گی۔امیدوار پولنگ اسٹیشن کی 400میٹر کی حدود میں کیمپ نہیں لگائے گا،امیدوار کے ایجنٹ کا حلقے کا شناختی کارڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ضابطہ اخلا ق کی خلاف ورزی پر ریٹرننگ آفیسر امیدوار کو شو کاز نوٹس جاری کرے گا۔ریٹرننگ افسران امیدواروں کی فہرست اور ضابطہ اخلاق کی کاپی آویزاں کریں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں ڈیوٹی سے استثنا ء کی درخواستوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کرانا ہم سب کا قومی فریضہ ہے،لہذا کوئی ایسی درخواست استثناء کیلئے الیکشن کمیشن کونہ بھیجی جائے۔جمعرات کو ترجمان الیکشن کمیشن

کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مختلف محکموں اور افراد سے انتخابات میں ڈیوٹی سے استثنا ء کی درخواستوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کرانا ہم سب کا ایک قومی فریضہ ہے جسے ہم سب نے ملکر پورا کرنا ہے اور اپنے ملک وقوم کوایک صاف شفاف الیکشن دینا ہے۔لہذا کوئی ایسی درخواست استثناء کیلئے الیکشن کمیشن کونہ بھیجی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…