منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پانی کی کمی اور بجلی کی قلت،پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان 56 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے معاہدے طے پا گئے

datetime 13  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان اور عالمی بنک کے درمیان توانائی اور پانی کے شعبوں کے منصوبوں میں مالی معاونت کے لئے 56 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے معاہدے طے پا گئے۔ سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن سیّد غضنفر عباس جیلانی اور عالمی بنک کے کنٹری ڈائریکٹر پچامتھو ایلانگوان نے معاہدوں پر دستخط کئے۔

معاہدوں کے تحت نیشنل ٹرانسمیشن ماڈرنائزیشن (فیز ون) منصوبہ کے لئے 425 ملین ڈالر اور سندھ بیراجوں کی بہتری کے منصوبہ کیلئے 140 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ شامل ہے۔ نیشنل ٹرانسمیشن ماڈرنائزیشن کا مقصد ملک میں قومی ٹرانسمیشن سسٹم کے منتخب حصوں کی استعداد بڑھانا اور این ٹی ڈی سی میں جدت لانا ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 536.33 ملین ڈالر لگایا گیا ہے، عالمی بنک اس منصوبے کے لئے 425 ملین ڈالر فراہم کرے گا جبکہ 111.33 ملین ڈالر کی لاگت این ٹی ڈی سی برداشت کریگی ٗ سندھ بیراجوں میں بہتری کے منصوبہ کا مقصد گدو بیراج کی کارکردگی اور سیفٹی کو بہتر بنانا اور سندھ کے محکمہ آبپاشی کی استعداد کو بڑھانا ہے۔ اس منصوبہ کے لئے درکار اضافی فنانسنگ کا مجموعی تخمینہ 152.2 ملین ڈالر ہے جس میں سے 140 ملین ڈالر اے ایف کے تحت اور 12.2 ملین ڈالر حکومت سندھ فراہم کرے گی۔ اس موقع پر سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن نے عالمی بنک کا شکریہ ادا کیا اور عالمی بنک کی جانب سے پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی کی کوششوں میں مسلسل تعاون کو سراہا۔  پاکستان اور عالمی بنک کے درمیان توانائی اور پانی کے شعبوں کے منصوبوں میں مالی معاونت کے لئے 56 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے معاہدے طے پا گئے۔ سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن سیّد غضنفر عباس جیلانی اور عالمی بنک کے کنٹری ڈائریکٹر پچامتھو ایلانگوان نے معاہدوں پر دستخط کئے۔ معاہدوں کے تحت نیشنل ٹرانسمیشن ماڈرنائزیشن (فیز ون) منصوبہ کے لئے 425 ملین ڈالر اور سندھ بیراجوں کی بہتری کے منصوبہ کیلئے 140 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…