منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے احکامات، پاکستان واپس آنا ہے یا نہیں؟؟ پرویز مشرف نے اپنا فیصلہ سنادیا

datetime 13  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے (آج) جمعرات کو سپریم کورٹ میں طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو 13 جون کو طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرویز مشرف کو ایئر پورٹ سے عدالت تک گرفتار نہ کیا جائے جس پر سابق صدر نے ایک افطار ڈنر کے موقع پر خطاب کے دوران کہا تھا کہ

عدالت عظمی گرفتار نہ کرنے کی گارنٹی دے ۔ بدھ کو لاہور رجسٹری میں سماعت کے دوران پرویز مشرف پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ایک دن کی مہلت دیتے ہوئے 14 جون کو وطن واپس آ کر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف وطن واپس نہ آئے تو آئندہ ماہ ہونیوالے عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے ان کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال نہیں ہونے دی جائیگی۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی واپسی سے متعلق ان کی طرف سے پیش کی جانیوالی شرائط کی پابند نہیں ۔ دوسری جانب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس یاور علی کی سربراہی میں قائم خصوصی عدالت پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کریگی اس سلسلے میں وزارت قانون وانصاف نے ایک باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے جس کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نذر اکبر بھی خصوصی عدالت کا حصہ ہونگے۔ نجی ٹی وی کے مطابق تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پاکستان نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پارٹی رہنماؤں اور اپنی قریبی دوستوں کیساتھ وطن واپسی کیلئے مشاورت کی تھی جس پر پرویز مشرف کے قریبی رفقاء نے بھی وطن واپس نہ جانے کا مشور ہ دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…