منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

عافیہ کا کیس لڑنے کیلئے حکومت پاکستا ن نے اسوقت وہاں تعینات سفیر حسین حقانی کو 20لاکھ ڈالرز بھیجے مگر وہ پیسے کون کھا گیا؟عافیہ صدیقی نے پاکستانی قونصل جنرل سے ملاقات میں تہلکہ خیز انکشافات کر دئیے

datetime 13  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ میں تعینات قونصل جنرل کی عافیہ صدیقی سے ملاقات کے حوالے سے رپورٹ دفتر خارجہ کو موصول ہو چکی ہے جس کے مطابق عافیہ صدیقی مسٹر ای مییئرزنامی صرف ایک اسٹاف ممبر پر اعتماد کا اظہارکرتی ہے لیکن وہ اس سے مدد کی بار بار اپیل اس خوف سے نہیں کرتی کہیں وہ مشکل شکار نہ ہو جائے ۔قونصل جنرل نے عافیہ سے پوچھا کہ کیا وہ ای میل ریسیو کرتی رہی ہیں

تو انہوں نے کہا کہ یہ سب جعلی ای میلز ہیں ، اصلی ای میل ہتھیا لی گئی ہے ۔ عافیہ نے پاکستانی قونصل جنرل سے اصرار کیا کہ وہ رپورٹ کریں کہ وہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر تندرست ہیں اور ان کی ذہنی حالت بھی درست ہے ۔ قونصل جنرل نے عافیہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے 2011میں جج کو لکھا تھا کہ آپ اپنے خلاف سنائے گئے فیصلے کو چیلنج نہیں کرنا چاہتیں تو عافیہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ’’ جی ہاں! کیونکہ مجھے یہاں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ میں ان کا کیس وکلاء کی نااہلی کہ وجہ سے ضائع ہوا۔ ڈاکٹر عافیہ نے آصف حسین نامی ایک شخص جو اس وقت کے امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کا پی اے بتایا جاتا ہے ، پر الزام عائد کیا کہ اس نے اس کیس کے ٹرائل کے لئے 2010میں پاکستانی حکومت کی جانب سے دیئے گئے دو ملین ڈالرز ہڑپ کئے ۔ انہوں نے کہا سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی بھی اس رقم کی خرد برد میں شامل ہو سکتے ہیں۔ عافیہ کے بقول حسین حقانی ان کی مدد میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے ۔ ڈاکٹر عافیہ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خلاف مسلسل غلط معلومات پھیلائی جاتی رہیں، ان کا کسی بھی کالعدم گروہ سے تعلق نہیں تھا اور نہ اس شخص سے ’’جو2011میں سمندر میں پھینکا گیا‘‘ ، ان کا اشارہ اسامہ بن لادن کی طرف تھا۔عافیہ نے جیل عملے پر قران کی بے حرمتی کا الزام بھی عائد کیا ۔ عافیہ نے کہا خوراک میں فاسفیٹ اور فاسفورک ایسڈ کی ملاوٹ کی صورت میں زہر دیا جا رہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…