بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

عائشہ احد اور حمزہ شہباز کے درمیان چیف جسٹس نے صلح کروادی ،حیران کن پیشرفت

datetime 11  جون‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) حمزہ شہباز اور ان کی مبینہ اہلیہ عائشہ احد نے ایک دوسرے کے خلاف تمام کیسز واپس لے لیے جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان معاملات طے پاچکے ہیں اب دونوں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہیں کریں گے اور جن شرائط پر حمزہ شہباز اور عائشہ احد میں مفاہمت ہوئی وہ میڈیا پر موضع بحث نہیں بنے گا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں عائشہ احد پر مبینہ تشدد کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز اور ان کی اہلیہ ہونے کی دعویدار عائشہ احد عدالت میں پیش ہوئیں۔چیف جسٹس نے عائشہ احد اور حمزہ شہباز کو چیمبر میں بلا یا اور کہا کہ ایک باپ کی حیثیت سے آپ دونوں کو چیمبر میں آنے کا کہہ رہے ہیں، جو بات آپ کھلی عدالت میں نہیں بتانا چاہتے وہ چیمبر میں بتائیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے تقریبا ایک گھنٹے چیمبر میں دونوں کا مقف سنا جس کے بعد چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں آکر فیصلہ لکھوایا کہ حمزہ شہباز اور عائشہ احد کے درمیان معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہوگیا ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف کیسز واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے یہ بھی حکم دیا کہ عائشہ احد اور حمزہ شہباز کیدرمیان جن شرائط پر مفاہمت ہوئی ان پر وہ دونوں میڈیا پر بات نہیں کرینگے۔عدالت کے فیصلے کیبعد کورٹ سے باہر آنے پر صحافی نے حمزہ شہباز سے سوال کیا کہ کیا آپ عدالتی فیصلے سے مطمن ہیں؟ اس پر حمزہ نے جواب دیا اللہ کا شکر ہے۔

اس سے قبل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے حمزہ شہباز اور عائشہ احد کیکیس میں ثالث بننے کی پیشکش کردی اور کہا کہ اگر حمزہ شہباز شادی سے انکار کر رہے ہیں تو پنجاب سے باہر کی جے آئی ٹی تشکیل دے دیتے ہیں۔عائشہ احد نے عدالت میں بتایا تھا کہ میری حمزہ شہباز سے 2010 میں شادی ہوئی، اس موقع پر حمزہ شہباز نے خاتون کے دعوے کو مسترد کر دیا۔سماعت کے دوران حمزہ شہباز کے وکیل زاہد بخاری نے دلائل دینے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس نے انہیں روک دیا اور کہا کہ میں دونوں متاثرہ فریقین کا موقف سننا چاہتا ہوں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ معاملہ بیٹھ کر حل نہیں کرنا تو پنجاب کے باہر سے جے آئی ٹی بنا دیتا ہوں، آپ پنجاب کے با اثر لوگ رہے ہیں اس لیے انویسٹی گیشن باہر کے لوگوں سے کرائی جائے گی، انویسٹی گیشن میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے لوگ بھی شامل ہوں گے۔اس موقع پر بینچ کے دیگر ججز نے حمزہ شہباز اور عائشہ احد کو مشورہ دیا کہ چیف جسٹس کی بات مانیں۔چیف جسٹس نے حمزہ شہباز سے مکالمہ کیا کہ اگر آپ طلاق دینا چاہتے ہیں تو یہ آپ کا شرعی حق ہے،اگر آپ نے شادی نہیں کی ہے تو بھی آپ کو پورا حق ہے، اگر نکاح نامہ رجسٹرڈ نہیں بھی ہوا تو نکاح 2 گواہان کی موجودگی میں ہوجاتا ہے، غیر کسی کو سنے کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…