بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

فاروق ستار نے این اے 241،245 اور 247 سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے

datetime 9  جون‬‮  2018 |

کراچی(آئی این پی ) ایم کیوایم پاکستان پی آئی بی کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے قومی اسمبلی کے تین حلقوں این اے 241،245 اور 247 سے کاغذات نامزدگی جمع کرا تے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کو اب تک سیاسی آزادی نہیں دی گئی، 165 لاپتا افراد بازیاب نہیں کرائے گئے،کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے دفاتر واپس کیے جائیں، ہمیں دیوار سے لگائے جا نے کا عمل اب بند ہونا چاہیے۔

مائنس ون فارمولا تک تو ٹھیک، اگرایم کیو ایم کو مائنس کرنے کا تاثر ملا تو کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ہفتہ کو کراچی کے حلقہ این اے 241 کورنگی سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے بتایا کہ میں این اے 241،245 اور 247 سے کاغذات جمع کرا رہا ہوں، ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے کافی دوست کاغذات جمع کرا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان کو اب تک سیاسی آزادی نہیں دی گئی، 165 لاپتا افراد بازیاب نہیں کرائے گئے، بے گناہ اسیروں کو رہا نہیں کیا جارہا، کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے دفاتر واپس کیے جائیں۔ انہوں نے کہا سندھ میں نگران حکومت تقریبا پاکستان پیپلزپارٹی کی ہے، ترقیاتی فنڈز اب بھی سندھ بھر میں خرچ ہو رہے ہیں، حلقہ بندیوں میں ناانصافی اور ترقیاتی فنڈز کا استعمال قبل از انتخابات دھاندلی ہے، امیدواروں کیاخراجات پر پابندی لگائی گئی ہے لیکن جماعت پر نہیں، جماعتوں پرپابندی نہ لگانیسے یکساں مواقع فراہم نہیں ہوں گے۔فاروق ستار نے کہا کہ ہمیں دیوار سے لگائے جا نے کا عمل اب بند ہونا چاہیے، مائنس ون فارمولا تک تو ٹھیک، اگرایم کیو ایم کو مائنس کرنے کا تاثر ملا تو کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں، میں نے الیکشن کیبائیکاٹ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ایم کیوایم پاکستان کے رہنما نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر شپ پر میرا نام لکھنا چاہیے اور الیکشن کمیشن کو عبوری فیصلہ تسلیم کرنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…