جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

امیدوار بیان حلفی میں کیا لکھ کر دیں گے؟کیا حلف نامے سے جھوٹ کا یہ کاروبار رک جائے گا؟ سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں ملزموں کو 9 جون تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا‘ عدالت نے آج میاں نواز شریف کو بھی طلب کیا لیکن یہ نہیں آئے‘ نواز شریف اس سے کتنی دیر بچ سکیں گے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 6  جون‬‮  2018 |

آج سے 30 سال پہلے نعیم بخاری پی ٹی وی پر ایک ٹاک شو کرتے تھے، یہ ایک بار اپنے شو میں ایک بھکاری کو لے آئے اور اس سے پوچھا ‘ تم جب کسی انسان کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہو تو کیا تمہارے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا‘ بھکاری نے جواب دیا‘ یہ ہاتھ ہے کوئی دو من کا پتھر تو نہیں‘ لیجئے میں نے آپ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیا‘ بتائیے کتنا بوجھ پڑ گیا‘ انسان کے اندر جب احساس مر جاتا ہے تو ہاتھ پھیلانا ہو یا پھر حلف اٹھانا ہو تو انسان کے ضمیر پر کوئی بوجھ‘ کوئی زد نہیں پڑتی‘

یہ خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا ہو کر بھی جھوٹ بول دیتا ہے اورکوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا‘ آج سپریم کورٹ میں اسمبلیوں کے نئے امیدواروں کے فارم کا مسئلہ زیر سماعت تھا‘ سپریم کورٹ نے آج نیا فارم برقرار رکھا لیکن اس کے ساتھ بیان حلفی لازم قرار دے دیا‘ امیدوار اس بیان حلفی میں لکھ کر دیں گے یہ ٹیکس چور نہیں ہیں‘ یہ کسی مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں‘ یہ کسی عدالت سے سزایافتہ نہیں ہیں‘ یہ دہری شہریت نہیں رکھتے‘ یہ بینک اور یوٹیلٹی بلز کے ڈیفالٹر نہیں ہیں‘ یہ بے نامی اکاؤنٹس اور بے نامی جائیداد کے مالک بھی نہیں ہیں اور ان کی کوئی خفیہ اہلیہ اور خفیہ بچے بھی نہیں ہیں‘ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق امیدوار یہ بیان حلفی ریٹرننگ افسروں کے سامنے دیں گے لیکن اسے سپریم کورٹ کے سامنے حلفیہ بیان سمجھا جائے گا‘ امیدوار اس بیان حلفی کے بعد غلط بیانی کرکے یقیناً پھنس جائیں گے لیکن یہ بعد کی باتیں ہیں‘ آپ مجھ سے آج لکھوا لیجئے بے شمار لوگ حلفیہ بیان میں غلط بیانی کریں گے اور الیکشن کے بعد سپریم کورٹ میں ان کے خلاف کیس بھی کھلیں گے‘کیوں؟ کیونکہ جب انسان کا احساس مر جاتا ہے تو پھر کیا دلی‘ کیا لاہور‘ یہ ہر جگہ دھڑلے سے جھوٹ بول سکتا ہے‘ یہ لوگ اگر اتنے ہی اچھے ہوتے تو ان سے بیان حلفی لینے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ کیا حلف نامے سے جھوٹ کا یہ کاروبار رک جائے گا‘

سپریم کورٹ کے کندھوں کا بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے‘ الیکشن کمیشن کا کام بھی سپریم کورٹ کر رہی ہے‘ یہ ادارہ اتنے بوجھ کب تک برداشت کرے گا اور سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں ملزموں کو 9 جون تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا‘ عدالت نے آج میاں نواز شریف کو بھی طلب کیا لیکن یہ نہیں آئے‘ نواز شریف اس سے کتنی دیر بچ سکیں گے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…