ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

جج نے مجھے اپنے چیمبر میں بلا کر مجرم کے والد کے سامنے کہا کہ ۔۔۔۔۔ گلے اور سینے پر چاقو کے 23 وار برداشت کرنے والی خدیجہ صدیقی نے اصل کہانی بتا دی

datetime 5  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) گلے اور سینے پر چاقو کے 23 وار برداشت کرنے والی خدیجہ نے اصل کہانی بتا دی،ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خدیجہ صدیقی نے کہا کہ میں اگلے دو تین دن تک سوچتی رہی کہ جج صاحب نے مجھے ایسا کہا ہے، کریمنل کے والد صاحب کے سامنے جج صاحب نے مجھ سے کہا آپ صلح نہیں کر رہیں؟ میں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں،

جج صاحب نے کہا کہ بڑے بڑے قتلوں کے کیسز میں صلح ہو جاتی ہے یہ کون سا معمولی کیس ہے، خدیجہ صدیقی نے بتایا کہ میں نے کہا کہ یہ معمولی آپ لوگوں کے لیے ہو گا لیکن یہ ہمارے معاشرے کا مسئلہ ہے جس کے خلاف میں کھڑی ہوئی ہوں، جس طرح سے عورتوں کے ساتھ عدالتوں میں ہوتا ہے میں اس کے خلاف کھڑی ہوئی ہوں اور کھڑی رہوں گی، اس کے علاوہ جج نے مجھ سے کہا کہ آپ ثابت کریں کہ اس نے آپ پر حملہ کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے ضرور کوئی بے عزتی کی ہو گی جس کی وجہ سے اس نے ایسا کیا۔ پروگرام میں ضرار کھوڑو نے کہاکہ حسن نیازی کے مطابق پنجاب کے گورنر رفیق رجوانہ نے آپ کو ذاتی طور پر اور براہ راست کہا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں، ضرار کھوڑ نے خدیجہ صدیقی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا گورنر پنجاب نے آپ سے براہ راست رابطہ کیا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بالکل انہوں نے مجھ سے رابطہ کرکے کہا تھا کہ صلح کر لیں، اب وہ غلطی مان رہے ہیں،سزا ہو چکی ہے، اس کا مستقبل تباہ ہو گیا ہے، اس موقع پر خدیجہ صدیقی نے کہا کہ اگر گورنر مجھے براہ راست کہہ سکتے ہیں تو ان کا جج پر دباؤ نہیں ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…