ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ملک کے بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کو دیکھتے ہوئے پاک فوج کے جوان نے 5 ہزار کی رقم سپریم کورٹ بھجوا دی اور خط میں ایسی باتیں لکھ دیں جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہیں

datetime 5  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) سابق آرمی اہلکار نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو قومی خزانے میں جمع کرانے کی گزارش کرتے ہوئے 5 ہزار روپے عطیہ کی رقم بھجوا دی۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کے مطابق رقم کے ساتھ موصول ہونے والے خط میں لکھا گیا تھا کہاس رقم کو ملک کا قرضہ اتارنے کے لیے قومی خزانے میں جمع کرا دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ

یہ خط منڈی بہاؤالدین کے ریٹائرڈ نائک محمد اسلم کی جانب سے بھیجا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ یہ خط ظاہر کرتا ہے کہ عوام کو عدلیہ اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پر اعتبار ہے تاہم عطیہ کو محمد اسلم کو واپس کردیا گیا ہے کیونکہ یہ عدلیہ کے اختیار میں نہیں کہ قومی خزانے میں وہ رقم جمع کرائے۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری بیان میں محمد اسلم کی نیک خواہشات کو سراہا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے بیرونی اور ملکی قرضوں میں گزشتہ 5 برس کے دوران بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کا موجودہ بیرونی قرضہ اس وقت 90 کھرب ڈالرز کی سطح کو عبور کر چکا ہے۔ اس صورتحال میں ملک کا ہر شہری لاکھوں روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔اس سابق آرمی اہلکار کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے ہے۔ سپاہی نائیک محمد اسلم کے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا رکھی ہے ،سوشل میڈیا صارفین نے سپاہی نائیک محمد اسلم کے جذبے کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ اس سپاہی جیسے لوگ ملک کو بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں جبکہ ہمارے سیاستدان ملک کو تباہی کی جانب لے کر جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…