جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ریحام خان کی کتاب پاکستان مسلم لیگ ن نے کس کے ذریعے لکھوائی؟ یہ کتاب اتنی کنٹروورشل کیوں ہو رہی ہے اور کیا اس کے پیچھے واقعی پاکستان مسلم لیگ ن ہے؟ کیا اس کتاب پر پابندی لگنی چاہیے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 5  جون‬‮  2018 |

مجھے دو ہفتے قبل تبت جانے کا اتفاق ہوا‘ لہاسا دنیا کا بلند ترین شہر ہے‘ یہ سطح سمندر سے چار ہزارمیٹر بلند ہے اور یہ اس لحاظ سے دنیا کی چھت کہلاتا ہے‘ لہاسا میں درخت نہیں ہیں چنانچہ وہاں آکسیجن بہت کم ہے‘ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے میری ناک اور منہ سے خون نکلنا شروع ہو جاتا تھا اور سر درد سے پھٹنے لگتا تھا‘ مجھے وہاں جا کر احساس ہوا آکسیجن ہمارے لیے کتنی اہم ہے

اور آکسیجن کو سبزہ اور درخت پیدا کرتے ہیں‘ اگر درخت نہیں ہیں تو آکسیجن نہیں ہے اور اگر آکسیجن نہیں ہے تو پھر زندگی نہیں ہے‘ زمین اور دوسرے سیاروں میں زندگی کا فرق ہے یہاں ہمارے کرہ ارض پر زندگی ہے جبکہ دوسرے سیاروں پر زندگی موجود نہیں اور یہ زندگی آکسیجن کی دین ہے جس دن آکسیجن ختم ہو جائے گی اس دن زمین میں اور مریخ میں کوئی فرق نہیں رہے گا‘ آج ماحولیات کا عالمی دن ہے‘ آج کے دن میری درخواست ہے آپ درخت بچائیں تاکہ زندگی بچی رہے اور جو درخت کاٹے حکومت اسے سیاچن چھوڑ آئے تا کہ اسے درخت اور آکسیجن کی اہمیت کا احساس ہو سکے‘ ہم اب ماحولیاتی آلودگی سے سیاسی آلودگی کی طرف آتے ہیں، عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی کتاب کا ایشو الجھتا چلا جا رہا ہے پاکستان تحریک انصاف اسے پری پول دھاندلی قرار دے رہی ہے‘ یہ اس پر پابندی بھی لگوانا چاہتی ہے اور اس کا خیال ہے یہ کتاب پاکستان مسلم لیگ ن نے حسین حقانی کے ذریعے لکھوائی‘ یہ کتاب اتنی کنٹروورشل کیوں ہو رہی ہے اور کیا اس کے پیچھے واقعی پاکستان مسلم لیگ ن ہے اور اس پر پابندی لگنی چاہیے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…