بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

نئے کاغذات نامزدگی فارمز میں کیا کیا تبدیلیاں کی گئیں؟ اب کیسے کالا دھن رکھنے والوں، ٹیکس چوروں، قرضہ خوروں اور مجرمانہ بیک گراؤنڈ رکھنے والوں کو بڑا فائدہ پہنچے گا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 4  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی محمد مالک نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں حیرت انگیز انکشافات کر دیے، نئے کاغذات نامزدگی فارمز میں کیا کیا تبدیلیاں کی گئیں اور نئے کاغذات نامزدگی میں کیسے کالا دھن رکھنے والوں، ٹیکس چوروں، قرضہ خوروں اور مجرمانہ بیک گراؤنڈ رکھنے والوں کو فیور دی گئی، معروف صحافی محمد مالک نے کہا کہ فارم میں سے انیس چیزیں نکال دی گئیں،

انہوں نے کہا کہ پرانے فارم میں ایک شق ہوتی تھی جس میں ڈیکلریشن دینا ہوتا تھا، اگر میں نے، میرے خاندان نے بیس لاکھ سے زیادہ کا قرضہ لیا ہوا ہے یا ان پیڈ ہے یا معاف کرایا ہوا ہے تو وہ حلفیہ دینا پڑتا تھا۔ یہ ہٹا ہی دیا گیا ہے، معروف صحافی نے کہا کہ میں چھوٹی چھوٹی شقیں بتاؤں گا کہ آخر یہ جھگڑا ہے کیا اور ڈرایا کیوں جا رہا ہے کہ فارم کو مت چھیڑیں ورنہ الیکشن لیٹ ہو جائیں گے، ایک تھا ڈیکلریشن اینڈ آؤٹ سٹینڈنگ لونز فرام بینک اپنے نام یا اپنے گھر والوں کے نام پر، اسی میں یہ تھا کہ بیس لاکھ سے زیادہ قرض لے کر کھایا ہوا تو نہیں۔ ایک ڈیکلریشن ہوتا تھا کہ کیا آپ نے کوئی یوٹیلٹی بل (بجلی، گیس وغیرہ) کوئی ڈیفالٹ تو نہیں کیا ہوا، ہم ڈیفالٹ ہوں تو ہماری بجلی کاٹ دی جاتی ہے اور گیس کا کنکشن ختم کر دیا جاتا ہے اور جو لوگ ہمارے نمائندے بننا چاہتے ہیں وہ یہ بتانا بھی نہیں چاہتے کہ وہ ڈیفالٹ میں ہیں کہ نہیں ہیں۔ ایک ڈیکلریشن یہ تھا کہ کون سی کمپنی میں آپ کے کتنے شیئر ہیں، آپ کے بیوی بچوں کے کتنے شیئر ہیں، ایک اور ڈیکلریشن تھا کہ آپ پر کون سے کیسز ہیں، کتنے کرائم کے مقدمات ہیں اس ڈیکلریشن کا مقصد یہ ہے کہ ووٹر کو پتہ چلے کہ ہمارے امیدوار پر کتنے کیسز تھے یا ہیں۔ اس کے علاوہ آپ سے ٹیکس نمبر مانگتے اور انکم ٹیکس آپ نے پچھلے تین سال میں کتنا دیا اور انکم پوری بتانی ہوتی تھی اور آمدنی کا ذریعہ بتانا پڑتا تھا، میں نے کمایا کہاں سے، معروف صحافی محمد مالک نے کہا کہ یہ جتنے مقدمے چل رہے ہیں

یہ اسی وجہ سے چل رہے ہیں۔  ایک ڈیکلریشن تھی کہ آپ نے باہر کتنا سفر کیا اور خرچا کتنا ہوا، یہ آپ کی سکروٹنی تھی، اگر آپ کہتے ہیں کہ میں انکم ٹیکس نہیں دیتا کیونکہ میں کاشتکار ہوں، میں زمیندار ہوں تو پھر آپ کو زرعی انکم ٹیکس کے بارے میں آپ کو بتانا پڑتا تھا۔ اور کل اثاثہ جات اور ذاتی خرچوں کے بارے میں بتانا پڑتا تھا اور ایک یہ کہ میں دوہری نیشنلٹی ہولڈر ہوں یا نہیں، یہ سب فارم سے نکال دیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…