جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

نئے کاغذات نامزدگی فارمز میں کیا کیا تبدیلیاں کی گئیں؟ اب کیسے کالا دھن رکھنے والوں، ٹیکس چوروں، قرضہ خوروں اور مجرمانہ بیک گراؤنڈ رکھنے والوں کو بڑا فائدہ پہنچے گا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 4  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی محمد مالک نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں حیرت انگیز انکشافات کر دیے، نئے کاغذات نامزدگی فارمز میں کیا کیا تبدیلیاں کی گئیں اور نئے کاغذات نامزدگی میں کیسے کالا دھن رکھنے والوں، ٹیکس چوروں، قرضہ خوروں اور مجرمانہ بیک گراؤنڈ رکھنے والوں کو فیور دی گئی، معروف صحافی محمد مالک نے کہا کہ فارم میں سے انیس چیزیں نکال دی گئیں،

انہوں نے کہا کہ پرانے فارم میں ایک شق ہوتی تھی جس میں ڈیکلریشن دینا ہوتا تھا، اگر میں نے، میرے خاندان نے بیس لاکھ سے زیادہ کا قرضہ لیا ہوا ہے یا ان پیڈ ہے یا معاف کرایا ہوا ہے تو وہ حلفیہ دینا پڑتا تھا۔ یہ ہٹا ہی دیا گیا ہے، معروف صحافی نے کہا کہ میں چھوٹی چھوٹی شقیں بتاؤں گا کہ آخر یہ جھگڑا ہے کیا اور ڈرایا کیوں جا رہا ہے کہ فارم کو مت چھیڑیں ورنہ الیکشن لیٹ ہو جائیں گے، ایک تھا ڈیکلریشن اینڈ آؤٹ سٹینڈنگ لونز فرام بینک اپنے نام یا اپنے گھر والوں کے نام پر، اسی میں یہ تھا کہ بیس لاکھ سے زیادہ قرض لے کر کھایا ہوا تو نہیں۔ ایک ڈیکلریشن ہوتا تھا کہ کیا آپ نے کوئی یوٹیلٹی بل (بجلی، گیس وغیرہ) کوئی ڈیفالٹ تو نہیں کیا ہوا، ہم ڈیفالٹ ہوں تو ہماری بجلی کاٹ دی جاتی ہے اور گیس کا کنکشن ختم کر دیا جاتا ہے اور جو لوگ ہمارے نمائندے بننا چاہتے ہیں وہ یہ بتانا بھی نہیں چاہتے کہ وہ ڈیفالٹ میں ہیں کہ نہیں ہیں۔ ایک ڈیکلریشن یہ تھا کہ کون سی کمپنی میں آپ کے کتنے شیئر ہیں، آپ کے بیوی بچوں کے کتنے شیئر ہیں، ایک اور ڈیکلریشن تھا کہ آپ پر کون سے کیسز ہیں، کتنے کرائم کے مقدمات ہیں اس ڈیکلریشن کا مقصد یہ ہے کہ ووٹر کو پتہ چلے کہ ہمارے امیدوار پر کتنے کیسز تھے یا ہیں۔ اس کے علاوہ آپ سے ٹیکس نمبر مانگتے اور انکم ٹیکس آپ نے پچھلے تین سال میں کتنا دیا اور انکم پوری بتانی ہوتی تھی اور آمدنی کا ذریعہ بتانا پڑتا تھا، میں نے کمایا کہاں سے، معروف صحافی محمد مالک نے کہا کہ یہ جتنے مقدمے چل رہے ہیں

یہ اسی وجہ سے چل رہے ہیں۔  ایک ڈیکلریشن تھی کہ آپ نے باہر کتنا سفر کیا اور خرچا کتنا ہوا، یہ آپ کی سکروٹنی تھی، اگر آپ کہتے ہیں کہ میں انکم ٹیکس نہیں دیتا کیونکہ میں کاشتکار ہوں، میں زمیندار ہوں تو پھر آپ کو زرعی انکم ٹیکس کے بارے میں آپ کو بتانا پڑتا تھا۔ اور کل اثاثہ جات اور ذاتی خرچوں کے بارے میں بتانا پڑتا تھا اور ایک یہ کہ میں دوہری نیشنلٹی ہولڈر ہوں یا نہیں، یہ سب فارم سے نکال دیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…