جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ میں تلخ جملوں کا تبادلہ، مجھے کتے نے نہیں کاٹا ،شہبازشریف ‘ مجھے نہیں پتہ آپ کو کس نے کاٹا ہے؟ چیف جسٹس کے ریمارکس،حیرت انگیز صورتحال

datetime 3  جون‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی) سپریم کورٹ لاہور جسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار اور وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے درمیان تند وتلخ جملوں کا تبادلہ‘ وزیراعلی بولے کہ مجھے کتے نے نہیں کاٹا تھا جو ملک کے اربوں روپے بچائے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مجھے نہیں پتہ آپ کو کس نے کاٹا ہے؟تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں 56 کمپنیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس کے حکم پر شہباز شریف عدالت کے روبرو پیش ہوئے، چیف جسٹس نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ ٹیکس پیڈ کے پیسے بھاری تنخواہوں پر کیوں خرچ کیے،کس قانون کے تحت 25،25 لاکھ رو پے تنخواہ دی ؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ لوگ آپ سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں جس پر شہباز شریف نے درخواست کی کہ مجھے بات کرنے کا موقع دیا جائے چیف جسٹس نے وزیر اعلی پنجاب سے استفسار کیا کہ آپ نے عوام سے کیا گیا کون سا وعدہ پورا کیا؟جس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ مختلف منصوبوں میں قوم کے 160 ارب روپے کی بچت کی اایک دھیلہ بھی کم ہو تو جو مرضی سزا دیں چیف جسٹس شہباز شریف کے جواب سے مطمئن نہ ہوئے اور جواب مسترد کردیا۔جس پروزیراعلی پھر بولے کہ میرے کاموں کی وجہ سے آپ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہیں شہباز شریف نے جذبات میں آکر کہا کہ مجھے کسی کتے نے کاٹا تھا جو اربوں روپے بچائے، تاہم انہوں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ معافی چاہتا ہوں سخت الفاظ واپس لیتا ہوں۔ سپریم کورٹ لاہور جسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار اور وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے درمیان تند وتلخ جملوں کا تبادلہ‘ وزیراعلی بولے کہ مجھے کتے نے نہیں کاٹا تھا جو ملک کے اربوں روپے بچائے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مجھے نہیں پتہ آپ کو کس نے کاٹا ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…