منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

کوئی ثبوت نہیں ۔۔اہم ترین کیس میں نوازشریف صاف بچ نکلے، پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کا عدالت میںحیرت انگیز اعتراف

datetime 1  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایسا دستاویزی ثبوت نہیں ملا کہ نواز شریف کو ہل میٹل کا کاروبار چلانے کی اتھارٹی دی گئی ہو اور ہل میٹل سے نواز شریف کو قرض لینے کا اختیار ملا ہو جب کہ ایسی کوئی دستاویز بھی نہیں ملی کہ نوازشریف ہل میٹل کی طرف سے مالی اداروں سے ڈیل کرتے ہوں، جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کا احتساب عدالت میں بیان ، سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف آج احتساب عدالت میں العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں جرح کے دوران جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا نے بتایا کہ ایسی دستاویزات نہیں ملیں کہ نواز شریف کو ہل میٹل کا کاروبار چلانے کی اتھارٹی دی گئی ہو اور ہل میٹل سے نواز شریف کو قرض لینے کا اختیار ملا ہو جب کہ ایسی کوئی دستاویز بھی نہیں ملی کہ نوازشریف ہل میٹل کی طرف سے مالی اداروں سے ڈیل کرتے ہوں۔واجد ضیاء نے کہا کہ زبانی شواہد بھی نہیں ملے جو ظاہر کریں نواز شریف ہل میٹل کی طرف سے ڈیل کرتے ہوں۔جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ ایسی دستاویزات نہیں ملیں کہ نواز شریف گلف اسٹیل کے کاروبار میں کسی بھی طرح شامل رہے اور کسی بھی حیثیت میں گلف اسٹیل کا کاروبار سنبھالا ہو۔ گلف اسٹیل کے لیے قرضہ لیا ہو یا نواز شریف گلف اسٹیل کی فروخت میں شامل رہے۔خواجہ حارث نے واجد ضیاء سے سوال کیا کہ آپ کی تفتیش کے مطابق ہل میٹل کب رجسٹرڈ ہوئی؟۔ اس پر جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ جو دستاویز پیش کیں ان کے مطابق 2005 میں رجسٹرڈ ہوئی۔اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ آپ اپنی تفتیش کا بتائیں کب قائم ہوئی؟۔ واجد ضیاء نے بتایا کہ ملزمان کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق 2005 میں رجسٹرڈ ہوئی۔ کسی گواہ نے بیان نہیں دیا کہ نواز شریف ہل میٹل قائم کرنے میں شامل ہوں، کسی گواہ نے یہ بھی

نہیں کہا کہ نواز شریف نے ہل میٹل قائم کرنے کے لیے رقم دی ہو، جے آئی ٹی تفتیش میں تعین نہ کر سکی کہ ہل میٹل کمپنی واحد ملکیت یا پارٹنر شپ پر مبنی ہے۔وکیل صفائی نے سوال کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے نواز شریف سے پوچھا کہ ہل میٹل کیسے قائم ہوئی؟۔ اس پر واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے نواز شریف سے دوران تفتیش ایسا کوئی سوال نہیں پوچھا۔ ان سے نہیں پوچھا کہ ہل میٹل کے لیے

فنڈز کس نے دیے۔ نواز شریف سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ ہل میٹل کا مالک کون ہے اور کاروبار کون چلاتا ہے؟واجد ضیاء نے کہا کہ اس پر از خود بھی جواب دینا چاہتا ہوں اور یہ باتیں نواز شریف کے بیان میں نہیں ہیں۔خواجہ حارث نے سوال کیا کہ آپ نے سوال کیا کہ ہل میٹل سے آنے والا پیسہ سیاست میں استعمال ہوتا تھا؟۔ اس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ اس سوال پر نواز شریف کا جواب “نہیں” میں تھا۔احتساب عدالت نے نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس میں واجد ضیاء پر جرح پیر تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…