منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالربے قابوہونے والا ہے ،آنے والے دنوں میں روپے کی قدر مزید کتنی کم ہوجائیگی؟ جان کر آپ کے پاؤں تلے سے زمین نکل جائیگی

datetime 29  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد،کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)پاکستانی روپے کی قدر میں بتدریج کمی۔ ماہرین اندازہ ظاہر کررہے ہیں کہ اگلے کچھ عرصے میں اس کی قدر میں مزید 10 سے 15 فیصد کی کمی ہو جائے گی۔

خلیج ٹائمز کے مطابق اورینٹ ایکسچینج کے سی ای او راجیو رائے پنچولیا نے پاکستانی کرنسی کی قدر میں ہونے والی کمی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2018-19ء کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں مزید 10 سے 15 فیصد کی کمی متوقع ہے کیونکہ آئی ایم ایف کے قرضے واپس کرنے کیلئے پاکستانی بینکوں نے چین سے امریکی ڈالر ادھار لئے ہیں۔ بلند شرح سود اور افراط زر بھی پاکستانی معیشت کو متاثر کررہی ہے جس کے پیش نظر متوقع ہے کہ 2020ء تک ایک ڈالر 140 پاکستانی روپے جبکہ ایک درہم 38.16 پاکستانی روپے کا ہوچکا ہوگا۔پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مئی 2017ء میں 16.4 ارب ڈالر تھے جو اب کم ہوکر 10.3 ارب ڈالر پر آچکے ہیں۔ ادائیگیوں کے توازن کو آسان بنانے کیلئے متوقع ہے کہ پاکستان چین سے ایک سے دو ارب ڈالر کا قرض لینے والا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیاں بھی توقع ظاہر کررہی ہیں کہ 2019ء میں پاکستانی روپے کی قدر کم ہوگی اور ایک ڈالر 125 روپے تک پہنچ جائے گا یعنی ایک درہم تقریباًٍ 34.1 روپے کا ہوگا۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستانی روپے کی قدر ڈالرکے مقابلے میں سالانہ پانچ فیصد کی شرح سے کم ہوتی جارہی ہے اور آنے والے چند سالوں میں یہ رجحان جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔دریں اثنااسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منی لانڈرنگ کے خلاف بڑا ایکشن لیتے ہوئے ایکسچینج کمپنیوں کو 500ڈالر سے زائد رقم کے لین دین کا ریکارڈ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق ایکسچینج کمپنیزکو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ ڈالر کی خرید و فروخت کرنے والے کی شناخت حاصل کریں ۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے منی ایکسچینج کمپنیوں کو بطور ریکارڈ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کی کاپی لینا لازمی قرار دی گئی ہے۔مرکزی بینک نے ایکسچینج کمپنیز منیول میں ترمیم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ہدایت پر عمل نہ کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…