بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

فاٹا کا انضمام ،عام انتخابات سے قبل ہی متحدہ مجلس عمل میں پھوٹ پڑ گئی،جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی اپنے اپنے موقف پرڈٹ گئے 

datetime 29  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے معاملے پر متحدہ مجلس عمل کی دو بڑی جماعتوں جمعیت علما اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں ، دونوں بڑی سیاسی جماعتیں فاٹا انضمام کی حمایت اور مخالفت کرنے والوں کی ہمدردیاں اور ووٹ لینے کی منصوبہ بندی کر رہیں جبکہ دوسری جانب قبائلی علاقوں میں مشترکہ انتخابی مہم چلانے سے دونوں سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں نے انکار کر دیا ہے ۔

ایم ایم اے کے ذرائع کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے فاٹا انضمام بل پر ایم ایم کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مابین اختلافات نے دینی جماعتوں کے اتحاد کو داؤ پر لگا دیا ہے ذرائع کے مطابق آنے والے عام انتخابات کے موقع پر جماعت اسلامی فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کو اپنی تاریخی کامیابی قرار دیکر قبائلیوں کی ہمدردیاں اور ووٹ حاصل کرنے کی خواہشمند ہے جبکہ دوسری جانب جمعیت علماء اسلام فاٹا انضمام کے مخالفین مشران کو اپنے ساتھ ملا کر انتخابی مہم چلانا چاہتی ہے ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کیلئے پریشان کن ہے اور مقامی سطح پر دونوں جماعتوں کے مشران نے بھی مشترکہ انتخابی مہم چلانے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ذرائع کے مطابق ایم ایم اے کے اتحاد کے باوجود جے یو آئی (ف) کے کارکنان نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے باہر احتجاج کیا جبکہ جماعت اسلامی کے ارکان اس بل کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کے لیے صوبائی اسمبلی میں موجود رہے۔ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے رہنمااس معاملے کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ فاٹا انضمام پر اختلافات سے ان کے انتخابی اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے بتایا کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا سے انضمام سمیت مختلف معاملات پر دونوں جماعتوں کا نقطہ نظر مختلف ہے،

تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ مارچ میں ایم ایم اے کے دوبارہ بحال ہونے سے پہلے سربراہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اتحاد کو نقصان پہنچائے بغیر تمام جماعتیں اپنی نظریاتی پوزیشن برقرار رکھیں گی۔جماعت اسلامی کے مطابق اگرچہ ایم ایم اے کی 2 اہم جماعتوں کے درمیان فاٹا انضمام کے معاملے پر اختلاف تھا لیکن اب دونوں جماعتوں کا اس معاملے پر ’ایک نقطہ نظر‘ پر ہوں گے اور فاٹا انضمام کے معاملے پر اختلاف کرنے والے دونوں جماعتیں ایم ایم اے کی سپریم کونسل کا فیصلہ قبول کریں گی

دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد ایم ایم اے حقیقی صورت میں فعال ہوجائے گی۔جماعت اسلامی کے ساتھ اختلافات کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا اتحاد انتخابات کے لیے ہے اور ہم ان معاملات پر بات کریں گے جو الیکشن کے بعد پیش آئیں گے‘ جے یو آئی کے مطابق فاٹا انضمام کے معاملے پر جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی کے درمیان اختلافات ہیں لیکن یہ الائنس کے اتحاد کو نقصان نہیں پہنچائے گا جے یو آئی کے مطابق وہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے خیال کے مخالف نہیں لیکن وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ قبائلی عوام کے مستقبل کے فیصلے میں انہیں بھی شامل کیا جانا چاہیے تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…