ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

نواز شریف سے ہاتھ ملانے کی کوشش کرنیوالے لیگی کارکن پرتشدد کے معاملے کا ڈراپ سین،نواز شریف نے روتے ہوئے کارکن کو گلے لگایا تو اس نے کیا کہا؟ حیرت انگیزصورتحال

datetime 28  مئی‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) سابق وزیر اعظم و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف سے ہاتھ ملانے کی کوشش کرنے والے لیگی کارکن کو سکیورٹی اہلکاروں نے مشکوک سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، نواز شریف نے کارکن کو اسٹیج پر بلا کر گلے لگایا جس پر اس نے خوش ہو کر شیر شیر کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ یہ واقعہ الحمراء ہال لاہور میں یومِ تکبیر کے حوالے سے منعقدہ کنونشن میں پیش آیا۔

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سٹیج پر اپنی صاحبزادی مریم نواز اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ موجود تھے کہ اچانک ایک لیگی کارکن نے ہاتھ ملانے کیلئے ان کی جانب دوڑ لگا دی لیکن سکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے اسے پکڑ کر خوب پٹائی کی اور تشدد کرتے ہوئے اسٹیج سے نیچے لے گئے ۔ اس دوران پنڈال میں موجود کارکنوں نے بھی اس پر تشدد شروع کر دیا جس پر کارکن رونے لگا تو خواجہ سعد رفیق پنڈال میں آئے اور کارکن کو گلے لگا کر بوسہ دیا اور اسے واپس اسٹیج پر لے کر گئے ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کارکن کو اسٹیج پر بلا کر گلے سے لگایا۔ جس پر اس نے زور زور سے شیر شیر کے فلک شگاف نعرے لگانا شروع کر دیئے ۔اس موقع پر مریم نواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی والوں کو نہیں پتہ کہ نواز شریف اور عوام میں عاشق اور معشوق کا رشتہ ہے۔ میرا بھائی میاں صاحب کو پیار کرنے آیا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں عوام اور قائد کے درمیان رشتے کو بھی سمجھو۔  سابق وزیر اعظم و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف سے ہاتھ ملانے کی کوشش کرنے والے لیگی کارکن کو سکیورٹی اہلکاروں نے مشکوک سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، نواز شریف نے کارکن کو اسٹیج پر بلا کر گلے لگایا جس پر اس نے خوش ہو کر شیر شیر کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ یہ واقعہ الحمراء ہال لاہور میں یومِ تکبیر کے حوالے سے منعقدہ کنونشن میں پیش آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…