منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

ریاستی حکام بے لگام نہیں، فوری انصاف فراہم کرکے عوام کا اعتماد حاصل کیا، پاکستان میں نوٹسز سے متعلق چیف جسٹس کا چین کی شنگھائی یونیورسٹی میں ایسا خطاب کہ شرکا داد دئیے بغیر نہ رہ سکے

datetime 27  مئی‬‮  2018 |

شنگھائی (آئی این پی) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ریاستی حکام آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کے پابند ہیں،یہ طے ہوچکا ہے کہ ریاستی حکام کو حاصل اختیارات بے لگام نہیں،پاکستان کے ریاستی حکام آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کے پابند ہیں، سپریم کورٹ محروم طبقے کو فوری انصاف فراہم کرکے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ۔چین کی شنگھائی یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس

نے کہا کہ ریاست کے تمام ستون ملکی سالمیت، سیکورٹی اور وقار اور لوگوں کی فلاح کے لیے مل جل کر کام کریں، ریاستی حکام کو اپنے اختیارات انصاف کے اصولوں، برابری، شفاف اور قانون کے مطابق استعمال کرنے چاہئیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پاکستان کے ریاستی حکام آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے کے پابند ہیں، یہ طے ہوچکا ہے کہ ریاستی حکام کو حاصل اختیارات بے لگام نہیں، پاکستان کی عدلیہ کو ایگزیکٹو کے اقدامات پر نظر ثانی کا اختیار ہے، اسی لیے عدلیہ ایگزیکٹو کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس مہیا کرتی ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ محروم طبقے کو فوری انصاف فراہم کرکے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور خود کو بنیادی حقوق کے تحفظ کا نگراں ثابت کیا ہے، بنیادی حقوق کے مقدمات انصاف کی فراہمی اور انصاف تک رسائی کا موثر آلہ ہے، عوامی مفاد کے مقدمات بنیادی حقوق کا تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بناتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حالیہ دنوں میں قانون اور میڈیکل کی تعلیم اور ماحولیاتی معاملات پر از خود نوٹسز لیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…