جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر پاکستان کی خدمت کی ٗجنہوں نے اپنے مفادات کیلئے غلطیاں کیں ان سے بادشاہ کی طرح کا سلوک کیا جاتا ہے ، اسد درانی: کل جی ایچ کیو میں پیش ہونے کی تصدیق

datetime 27  مئی‬‮  2018 |

راولپنڈی /اسلام آباد (این این آئی)آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی نے متنازعہ کتاب لکھنے پرکل پیر کو جی ایچ کیو میں پیش ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی نئی کتاب سے متعلق فوج کو اپنا کیس پیش کرینگے ۔اپنے ٹوئٹر پر جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے کہاکہ انہوں نے فوج کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی اور انہیں یقین ہے کہ فوج ان کے موقف سے اتفاق کریگی ۔انہوں نے مزید کہاکہ انہیں اپنے لوگوں کی جانب

سے الزامات پر افسوس ہوا ہے ۔سابق آئی ایس آئی چیف نے کہاکہ انہوں نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر پاکستان کی خدمت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے دوسروں کیلئے خدمت کی ہے انہیں اس طرح صورتحال کا سامنا کر نا پڑتا ہے اور جنہوں نے اپنے مفادات کیلئے غلطیاں کی ہیں انہیں بادشاہ کی طرح کا سلوک کیا جاتا ہے ۔یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے دو سابق سربراہوں کی کتاب ‘دی سپائے کرونیکلز: را، اٰئی ایس آئی اینڈ دی الوژن آف پیس’ کی اشاعت پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا کہ کتاب پر فوج کو تحفظات ہیں اور ا س سلسلے میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی جی ایچ کیو میں پیش ہو کر وضاحت کریں ۔واضح رہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کی سابق ‘را’ چیف اے ایس دلت کے ساتھ مل کر لکھی ہے ٗ کتاب ‘دی سپائے کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوژن آف پیس’ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم معاملات پر بات کی ۔کتاب میں جن معاملات پر روشنی ڈالی گئی ٗ اْن میں کارگل آپریشن، ایبٹ آباد میں امریکی نیوی کا اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا آپریشن، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، حافظ سعید، کشمیر، برہان وانی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف نے جمعہ کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسددرانی کی کتاب پرقومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے ۔دوسری جانب سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے بھی کتاب کی اشاعت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ کتاب کسی سویلین یا سیاستدان نے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر لکھی ہوتی تو اس پر غدار کا فتویٰ لگا دیا جاتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…