جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

عمران خان نہ شہباز شریف، پاکستان کا اگلا وزیر اعظم کون بن سکتاہے؟جنرل(ر)اسد درانی کی کتاب میں حیران کن دعویٰ

datetime 27  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)’’را‘‘کے سابق چیف ایس کے دلت کیساتھ تحریرمشترکہ کتاب میں جنرل(ر) اسد درانی لکھتے ہیں کہ پرویز مشرف شاہد خاقان  سے مایوس تھے کیونکہ شاہد خاقان عباسی سابق کمانڈر کموڈور خاقان عباسی کا بیٹا ہے۔پرویز مشرف نے خاقان عباسی کو نواز شریف سے دور کرنے کی بہت کوشش کی ۔ لیکن خاقان عباسی نے آرمی کے ساتھ لڑنے کی بجائے جیل جانے کو ترجیح دی۔سپائے کرانیکلز میں بھارتی خفیہ ایجنسی را

کے سابق چیف اے ایس دولت کہتے ہیں کہ پاکستان کے عام انتخابات  کے حوالے سے جب میری جنرل احسان سے بات ہوئی تو جنرل احسان نے کہا کہ عمران خان پاکستان کا اگلا وزیراعظم ہوسکتا ہےتو میں نے کہا کیا واقعی؟ لیکن کچھ ہفتے بعد جب دوبارہ ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا عمران خان کا کوئی چانس نہیں ہے، میں نے پاکستانی دوستوں سے سنا کہ اگلا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہی کے بننے کا چانس ہےکیونکہ پنجاب پر (ن) لیگ کا کنٹرول ہے اور عمران خان سے امید نہیں کہ وہ سوائے لاہور اور چند شہروں میں سیٹیں جیتنے کے علاوہ جیت سکے گا ۔مجھے بتایا گیا کہ شاہد خاقان عباسی  نواز شریف کی پسند ہے جب میں نے پوچھا کہ شہباز شریف کو  وزیراعظم کیوں نہیں بنایا جائے گا تو انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نواز شریف کی پیٹھ پر چھرا نہیں گھونپے گا وہ بااعتماد شخص ہے، اسد درانی نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ بہت خوش ہے کہ ن لیگ کنٹرول میں ہے اور شاہد خاقان عباسی اچھا کام کر رہا ہے اس لئے وہ پسندیدہ امیدوار بن چکا ہے جبکہ عمران خان چھپا رستم ہے۔واضح رہے کہ کتاب پر شدید ردعمل کے بعد پاک فوج کی جانب سے جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کو کل وضاحت کیلئے جی ایچ کیو میں طلب کیا گیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…