منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کروڑوں کے کاروبار جو ٹکوں میں بکے

datetime 26  مئی‬‮  2018 |

لندن(سی پی پی)برطانیہ میں گھریلو سامان کے سٹوروں کی چین ہوم بیس اس وقت صرف ایک پاؤنڈ میں بک گئی جب اس کے آسٹریلوی مالک ویس فارمرز نے برطانیہ میں ناکامی کے بعد وہاں اپنا تمام کاروبار فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ویس فارمرز نے صرف دو سال پہلے ہوم بیس 34 کروڑ پاؤنڈ میں خریدی تھی، لیکن کاروبار میں مندی اور دوسرے اخراجات کی وجہ سے اسے ایک ارب پاؤنڈ کا نقصان ہو گیا۔

ایک پاؤنڈ کی رقم شاید بہت سے لوگوں کے لیے حیرت انگیز ہو، لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کوئی کمپنی ایک پاؤنڈ میں بکی ہو۔ اس کی چند مزید مثالیں پیش ہیں۔ریڈرز ڈائجسٹ امریکی رسالہ ہے اور اس کا شمار دنیا کے مقبول ترین رسائل میں ہوتا ہے۔ یہ ڈاکٹروں، دندان سازوں، نائیوں اور دوسری دکانوں میں اکثر رکھا نظر آتا ہے۔اپریل 2010 میں اس ڈائجسٹ کا برطانوی ایڈیشن بیٹر کیپیٹل نے ایک کروڑ 30 لاکھ پانڈ میں خریدا، لیکن چار سال کے اندر اندر اس نے ہتھیار ڈال دیے۔ کمپنی کو اس قدر خسارہ ہوا کہ اس نے یہ رسالہ مائیک لکویل نامی شخص کو صرف ایک پانڈ میں بیچ دیا۔2015 میں معروف برطانوی کاروباری شخصیت سر فلپ گرین نے بی ایچ ایس ڈیپارٹمینٹل سٹور چین صرف ایک پانڈ میں فروخت کر دی تھی۔بی ایچ ایس آرکیڈیا گروپ کا حصہ تھی لیکن کاروبار میں گھاٹے کے باعث سر فلپ کو اسے بیچنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔سٹی لنک کوریئر کمپنی تھی جسے 2013 میں ایک پانڈ میں فروخت کر دیا گیا۔اسے بیٹر کیپیٹل نے خرید کر اس پر چار کروڑ پانڈ خرچ کیے لیکن وہ اس کی قسمت بدلنے میں ناکام رہے۔جب 2001 میں انگلش فٹبال کلب کی ٹیم 2001 میں بری طرح ہاری تو اس کے مالک نے اسے ایک پانڈ کی خطیر رقم کے عوض فروخت کر دیا۔چار سال قبل انھی مالکوں نے یہ کلب دس کروڑ ڈالر میں خریدا تھا۔یہی تاریخ ایک اور فٹبال کلب چیلسی کی بھی ہے۔ 1982 میں اسے کین بیٹس نے ایک پانڈ میں خریدا تھا، تاہم اس کے ذمے 15 لاکھ پانڈ کے واجب الادا قرض بھی انھی کو ادا کرنا پڑے تھے۔یہ سرمایہ کاری خاصی منافع بخش ثابت ہوئی۔ کین بیٹس نے بعد میں یہ کلب 14 کروڑ پانڈ میں بیچ دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…