اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

نوازشریف کو بینظیر ، نصرت بھٹو کیخلاف مقدمات بناتے ہوئے مشرقی روایات کا خیال کیوں نہ آیا؟جو کچھ بھگت رہے ہیں انکا اپنا کیا دھرا ہے،پیپلز پارٹی کا دبنگ جواب

datetime 24  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(اے این این ) پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ نوا ز شریف جو کچھ بھگت رہے ہیں ان کا اپنا کیا دھرا ہے،مریم کٹہرے میں ہیں تو ذمہ دار نواز ہیں ،سابق وزیر اعظم کو بے نظیر اور نصرت بھٹو کے خلاف مقدمات بناتے ہوئے مشرقی روایات کا خیال کیوں نہ آیا،نواز شریف کو با وقار ہونا چاہیے تھا جو انکشافات وہ اب کر رہے ہیں پہلے کرتے تو قوم آج ان کے ساتھ کھڑی ہوتی۔ نواز شریف کے بیان پر رد عمل کا

اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نواز شریف آج جو کچھ بھگت رہے ہیں یہ سب ان کا اپنا کیا دھرا ہے ۔ابھی تو وہ سب کچھ کاٹا بھی نہیں جو بویا ہے۔آج اگر مریم نواز کٹہرے میں ہیں تو اس کے ذمہ دار بھی نواز شریف ہیں ۔اب انھیں تکلیف ہو رہی ہے ۔نواز شریف کو بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کیخلاف مقدمات بنواتے ہوئے مشرقی روایات کیوں یاد نہیں تھیں ۔ نواز شریف نے جو انکشافات کیے وہ انہیں پہلے کرنے کی ضرورت تھی تاکہ قوم آج ان کے ساتھ کھڑی ہوتی۔ نواز شریف کو باوقار بننے کی ضرورت تھی اور آج بھی انہیں سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس کے سامنے آنے کے بعد ہی نواز شریف کو چاہیے تھا کہ وہ وزارتِ عظمی سے مستعفی ہوجاتے تاکہ آج یہ نوبت ہی پیش نہ آتی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میں سمجھتا ہوں کہ اگر تو نواز شریف نے جو باتیں کیں وہ درست ہیں تو انہیں یہ پہلے کہنی چاہئیں تھیں، کیونکہ موجودہ وقت میں ہر وہ سیاستدان جو ملکی مفاد کا خیال رکھتا ہے، اسے اس طرح کے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے۔پی پی پی رہنما کا کہنا تھا شروع میں ہی پاناما لیکس پر ایک کمیشن بنا کر معاملے کو پارلیمان میں لے کر جانا چاہیے تھا، لیکن حکمران جماعت اپنے موقف پر ڈٹی رہی اور آج انہیں اسی وجہ سے عدالتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…