ورلڈ بینک نے 2016ء میں مائیگریشن اینڈ ریمیٹنس فیکٹ بک کے نام سے ایک رپورٹ جاری کی‘ یہ فیکٹ بک مختلف ممالک کے مہاجرین کی طرف سے مختلف ملکوں میں ٹرانسفر ہونے والے سرمائے سے متعلق تھی‘ رپورٹ میں پاکستان کے سامنے ، پاکستان ٹو انڈیا 4 اعشاریہ 9 بلین ڈ الر لکھ دیا گیا‘ رپورٹ کے رائٹر دلیپ راٹھا نے رپورٹ کے بارے میں کہا یہ اعداد وشمارحقیقی نہیں تخمینہ ہیں
جبکہ ماہرین کے خیال میں یہ میتھاڈالوجی پاکستان اور بھارت اور روس اور یوکرائن پر کام نہیں کرتی کیونکہ یہ دونوں الگ الگ ملک بن چکے ہیں اور دونوں کے لوگ دوسرے ملک میں مکمل آباد ہو چکے ہیں‘ اب انڈیا کا شہری پاکستان میں انڈین اور پاکستانی انڈیا میں پاکستانی نہیں رہا‘ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 21 ستمبر 2016ء کواس رپورٹ کی وضاحت کر دی اور ورلڈ بینک نے بھی منی لانڈرنگ کا الزام مسترد کر دیا، اس رپورٹ میں کسی جگہ منی لانڈرنگ اور میاں نواز شریف کا نام شامل نہیں لیکن اس رپورٹ کا حوالہ دے کر اوصاف اخبار کے ایک غیر معروف کالم نگار توصیف الحق صدیقی نے یکم فروری 2018ء کو کالم لکھا اور چاراعشاریہ نو بلین ڈالر کی رقم کو میاں نواز شریف اور اسحاق ڈار کی طرف سے منی لانڈرنگ ڈکلیئر کر دیا‘ چیئرمین نیب نے اس غیر معروف کالم کی بنیاد پر کل تحقیقات کا اعلان کر دیا‘ یہ معاملہ متنازعہ ہو گیا اور آج وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں چیئرمین نیب کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ اس نوٹس نے نیب کی کریڈیبلٹی کو بھی نقصان پہنچایا اور یہ نواز شریف کیلئے غیبی مدد بھی ثابت ہوا‘ میرا خیال ہے چیئرمین نیب کو جلد بازی نہیں کرنی چاہیے تھی، ریاستی ادارے اگر یوں غیر معروف کالم نگاروں‘ کے خلائی خیالات پر نوٹس لینا شروع ہو گئے تو پھر اس ملک کا واقعی خدا حافظ ہے،کیا نیب کو اس نوٹس پر ٹویٹ کی طرح معذرت کر لینی چاہیے، یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ آج جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پانچ ایم این ایز اور گیارہ ایم پی ایز پاکستان مسلم لیگ ن سے ٹوٹ کر پی ٹی آئی میں شریک ہو گئے، عمران خان نے اقتدار میں آنے کے 100 دن بعدجنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا اعلان کر دیا‘ کیا یہ کر سکیں گے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔