جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

رمضان المبارک کا آغاز، خیبرپختونخوا کے علماء کرام نے اہم ترین اعلان کر دیا

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخوا میں مرکزی رویت ہلال کے مطابق روزہ رکھنے اور عید منانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔واضح رہے کہ پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع کے علماء کرام اور مفتیان عظام نے روزہ اور عیدین کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ روز اس سلسلے میں پشاور میں جامعہ اکوڑہ خٹک کے نائب مہتمم مولانا مفتی عبدالمنعم کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا،

جس میں ٹل دارالعلوم کے شیخ الحدیث مفتی سردار، لکی مروت سے مفتی مغفورالرحمان، مولانا احمد شاہ، اسسٹنٹ پروفیسر بنوں میڈیکل کالج مولانا حافظ ادریس، معروف ماہر فلکیات مولانا مفتی ذاکر اللہ سمیت سابق ڈین شیخ زید اسلامک سینٹر پروفیسر دوست محمد اور صوبے کے دیگر نامور علماء کرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی سردار نے کہا کہ روزے اور عیدین کے اعلانات کا اختیار حکومت کے پاس ہے اور اسلامی ریاست میں حاکم وقت یا مقررہ کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عیدین اور روزے کے بارے میں اعلان کریں۔ دیگر علماء نے کہا کہ اگر ملک میں ہر عالم دین اپنی جانب سے روزے اور عیدین کا اعلان کرتا ہے تو ملک میں نظم و نسق کا فقدان ہوگا اور عوام میں بے چینی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پاکستان کے تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی تمام اہل پاکستان کے لیے شرعی حیثیت رکھتی ہے اور عوام اس کمیٹی کے فیصلے ماننے کے پابند ہیں، انہوں نے کہا کہ اپنی جانب سے کمیٹیاں بنانا اور روزے اور عیدین کے اعلانات کرانا خلاف شریعت ہے اور ملک کے قوانین کے خلاف بھی ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں عید الفطر دو مختلف دنوں پر منائی جاتی ہے کیونکہ پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی پوپلزئی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں کو خاطر میں نہیں لاتے اور اپنی طرف سے عیدالفطر کا اعلان کر دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…