جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

دو روز قبل حساس ادارے کی ملازمین سے بھری بس پر جب دہشتگردوںنے حملہ کیا تو جانتے ہیں بہادر بس ڈرائیور نے جان دیکردرجنوں ملازمین کو بچایا؟خودکش حملہ آور کو کیسے اپنے گھنائونے مقصد میں ناکام بنایا؟جان کر آپ داد دینے پر مجبور ہو جائینگے

datetime 5  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حساس ادارے کی بس کے بہادر ڈرائیور نے جان دیکر لازمین کو بچا لیا۔ تفصیلات کے مطابق دو روزقبل دہشتگردی کی کارروائی میں فائرنگ اور خودکش حملے کا نشانہ بننے والی ملازمین سے بھری بس کے بہادر ڈرائیور نے جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بس میں موجودملازمین کو بچالیا۔ ڈرائیور اکرم نیازی ملازمین سے بھری بس لے کر جیسے ہی بسال روڈ

پہنچا تو سپیڈ بریکر کراس کرنے کیلئے بس کو آہستہ کرنا پڑا اس دوران موٹر سائیکل پر بس کا تعاقب کرنے والے دہشتگردوں نے بس پر فائرنگ شروع کر دی ۔ جس پر ڈرائیور اکرم نیازی نیچے اتر اتو خود کش حملہ آور اس سے لپٹ گیا ور حملہ آور نے بٹن دبا کر دھماکہ کر دیا۔ جس کے نتیجے میں ڈرائیور سمیت وہاں سے گزرنے والا 20 سالہ حبیب خان بھی زد میں آکر شہید ہوگیا، جبکہ خودکش حملہ آور کے اعضا سینکڑوں فٹ دور تک جا گرے۔ پاکستان کے موقراخبار کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے بس قریب آنے پر بس پر فائرنگ کی ، جس پر بس ڈرائیور نے حملہ آور سے کچھ فاصلے پر بس روک کر حملہ آور کی جانب دوڑ لگادی۔ بس ڈرائیور کو آتے دیکھ کر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا ، جس سے بس ڈرائیور اور ایک راہگیر طالب علم موقع پر جاں بحق ہوگئے ، جبکہ بس میں سوار افراد سمیت 13 افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ خود کش تھا ، جس میںحساس ادارے کی بس کو نشانہ بنایا گیا۔ جائے وقوعہ سے حملہ آور کی ٹانگیں ، آنکھ اور سر کا کچھ حصہ ملا ہے۔ اعضا فارنزک تجزیئے کیلئے لاہور بھیجوائے جارہے ہیں۔ دھماکے کے فوری بعد حساس اداروں اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ دھماکے میں حساس ادارے کے 13 ملازم زخمی بھی ہوئے۔شہداء کا پوسٹ مارٹم کرنے کے

بعد ان کی لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ دوسری جانب علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے ، جب کہ متعدد مقامات سے مشکوک افراد کو گرفتار کرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…