جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار پر خصوصی نوازشوں کا سلسلہ جاری

datetime 3  مئی‬‮  2018 |

کراچی (آن لائن)نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار پر خصوصی نوازشوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب ملیر کینٹ کے مخصوص حصے کو ہی سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔ ملزم راؤ انوار کو کراچی منتقلی کے بعد ملیر کینٹ میں سخت سیکیورٹی میں رکھا گیا تھا، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گزشتہ سماعت میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا تاہم انکشاف ہوا ہے کہ انہیں جیل بھیجنے کے بجائے ملیر کینٹ منتقل کیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کے فوری بعد محکمہ داخلہ سندھ نے فون کے ذریعے آئی جی جیل خانہ جات کو احکامات جاری کیے کہ راؤ انوار کو سیکیورٹی خدشات ہیں اس لیے ملیر کینٹ کو سب جیل قرار دیاجائے۔محکمہ داخلہ سندھ کے ٹیلی فون پر ملیر کینٹ کو سب جیل قرار دینے کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا، ملیر کینٹ ملتان لائنز کو سب جیل قرار دینے کا نوٹی فکیشن عدالت کو موصول ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ بدھ کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی تاہم پولیس نے راؤ انوار کو پیش کرنے کے بجائے ان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کردیا۔ جس میں کہا گیا کہ وہ بیمار ہیں جس کی وجہ سے عدالت پیش نہیں ہوسکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…