اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

نیب کا سورج صرف پنجاب میں نہیں سارے پاکستان میں چمک رہا ہے، چیئرمین نیب

datetime 2  مئی‬‮  2018 |

سلام آباد(آئی این پی ) قومی احتساب بیورو (نیب)کے چئیرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کا سورج صرف پنجاب میں نہیں بلکہ سارے پاکستان میں چمک رہا ہے،نیب کسی کے ساتھ امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا،جس نے مبینہ طو پربدعنوانی کی ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق بلا تفریق کاروائی عمل میں لائی جائے گی ، نیب کی پالیسی فیس نہیں بلکہ کیس دیکھنے کی ہے ۔

نیب کا ایجنڈا صرف اور صرف پاکستان سے بدعنوانی کا خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی اور اسکو قومی خزانے میں جمع کروانا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کی صدارت کی ۔ اجلاس میں ڈپٹی چئیرمین نیب ، پراسیکیوٹر جنرل نیب اکانٹبلیٹی اور سینئر افسران نے شرکت کی۔ جسٹس (ر)جاوید اقبا ل نے 11 اکتوبر2017 کو اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعداپنے پہلے خطاب میں نیب کے تمام افسران سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ وہ بدعنوان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلا تفریق کاروائی کریں خصوصا اشتہاری اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں۔ نیب نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کے 11 اکتوبر2017 کے احکمات کی روشنی میں اب تک 226 افراد کو گرفتار ، 872 شکایات کی جانچ پڑتال، 403 انکوائریاں اور82 انوسٹی گیشن کی منظوری دی جبکہ 217 بدعنوانی کے ریفرنس متعلقہ معزز احتساب عدالت میں دائر کئے گئے جن میں سے39 افراد کو متعلقہ احتساب عدالت نے قانون کے مطابق سزا سنائی۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ملزم مظفر نشاط کے خلاف بدعنوانی کے 2 ریفرنسز میں 2001 اور 2004 میں احتساب عدالت میں پیش کئے گئے ۔ ملزم مظفر نشاط 001 2سے ہی اشتہاری تھا۔ ملزم کو 2004 میں احتساب عدالت نے اس کی عدم موجودگی میں نیب کے قانون 31-A کے تحت سزا سنائی۔ نیب نے مفرور ملزم کو قانون کے مطابق گرفتار کر کے کاروائی کا آغاز کیا۔

ملزم مظفر نشاط نے نیب کو لوٹی گئی رقم واپس کرنے کیلئے نیب سے پلی بارگین کی درخواست دی۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ملزم مظفر نشاط کی پلی بارگین کی درخواست متعلقہ معززاحتساب عدالت میں نیب آرڈینینس کے 25-B کے تحت پیش کرنے کی منظوری دی۔ جس کی متعلقہ معززاحتساب عدالت حتمی منظوری دے گی۔چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔

کہ نیب کا سورج صرف پنجاب میں نہیں بلکہ سارے پاکستان میں چمک رہا ہے تا کہ کرپشن کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیا جائے ۔ نیب کسی کے ساتھ امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا۔ جس نے مبینہ طو پربدعنوانی کی ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق بلا تفریق کاروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ نیب کی پالیسی فیس (Face) نہیں بلکہ کیس

(Case) کو دیکھنے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا ایجنڈا صرف اور صرف پاکستان سے بدعنوانی کا خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی اور اسکو قومی خزانے میں جمع کروانا ہے۔ انہوں نے نیب کے تمام ڈی جیز کو ہدایت کی کہ وہ شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائیں اور نیب کے مقدمات کی پیروی ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق موئثر انداز سے کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جا سکے۔



کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…