اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

محکمہ کسٹمز میں کالی بھیڑوں کا تبادلہ کرنے کا صلہ، ڈائریکٹر کسٹمز ڈاکٹر عدنان اکرم پر بدکاری کا الزام لگا کر ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا، افسوسناک تفصیلات سامنے آ گئیں

datetime 29  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) محکمہ کسٹمز میں موجود پندرہ کالی بھیڑوں کا پنجاب سے ٹرانسفر کرنے والے ڈائریکٹر کسٹمز ڈاکٹر عدنان اکرم پر بدکاری کا الزام لگوا کر ڈائریکٹر جنرل کسٹمز شوکت علی نے اسی کا تبادلہ کردیا۔ ڈاکٹر عدنان اکرم نے ڈی جی کیلئے بھتہ وصولی کی خدمات سرانجام دینے والے 15 افسران کو چارج سنبھالتے ہی تبدیل کردیا تھا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ڈی جی نے ڈائریکٹر عدنان اکرم کو کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کرنے سے منع کیا لیکن جب عدنان اکرم نے ان کے تبادلے کے احکامات

جاری کردیئے تو چند روز بعد ڈائریکٹر عدنان اکرم پر بدکاری کا الزام لگوا کر اسے تبدیل کردیا گیا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر کسٹمز انٹیلی جنس ملتان ڈاکٹر عدنان اکرم کو ڈی جی کسٹمز انٹیلی جنس شوکت علی نے بدکاری کا الزام لگا کر عہدے سے ہٹایا اور اسے کسٹمز ٹریننگ سینٹر لاہور بھیج دیا گیا۔ آن لائن کی تحقیقات کے مطابق ڈی جی کسٹمز شوکت علی نے کسی بھی خاتون یا گواہ کو سامنے لائے بغیر ہی یہ الزام لگایا اور اسے اپنے راستے سے ہٹا دیا۔ ڈی جی نے اپنا راستہ صاف کرنے کیلئے ممبر کسٹمز کو یہ ہدایات جاری کیں جبکہ ڈائریکٹر کسٹمز نے اصرار کیا کہ مجھے پہلے ثبوت پیش کئے جائیں لیکن ممبر کسٹمز نے ڈی جی کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسے لاہور ٹرانسفر کردیا ۔ ڈاکٹر عدنان اکرم نے جن 15 مبینہ کرپٹ افسران کے تبادلے کئے تھے انہیں ڈی جی کی ہدایت پر سرگودھا ‘ ملتان ‘ فیصل آباد ‘ سرائے مہاجر اور ڈیرہ غازی خان میں تعینات کیا گیا تھا۔ ڈی جی شوکت علی کی ہدایت پر ڈاکٹر عدنان اکرم کو ہٹا کر اس بدعنوان ٹولے کو دوبارہ انہی جگہوں پر تعینات کردیا گیا۔ اس حوالے سے موقف جاننے کیلئے متاثرہ ڈائریکٹر کسٹمز انٹیلی جنس ڈاکٹر عدنان اکرم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ڈی جی نے من گھڑت اور جھوٹے الزام کے ذریعے مجھے ہٹایا درحقیقت ایشو یہ تھا کہ جن 15 افسران کے میں نے تبادلے کئے تھے

ان پر کرپشن کے سنگین الزامات تھے۔ یہ لوگ کئی سالوں سے ان شہروں میں جم کر بیٹھے ہوئے تھے اور کارکردگی صفر تھی جب میں نے ان سے وضاحت مانگی کہ آپ کام کیوں نہیں کرتے تو ان کا جواب تھا کہ ہمیں اوپر سے کام نہ کرنے کا حکم ملا ہوا ہے چنانچہ میں نے ان کے تبادلے کردیئے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ان میں اکثر افسران نیب ملتان میں کرپشن کے مقدمات میں پیش ہوتے رہے ہیں اور عنقریب ان پر کرپشن کے کیس بن جائیں گے لیکن جو بندہ بھی دیانتداری سے پاکستان کیلئے کام کرنا چاہتا ہے

تو اسے بااثر مافیا کام نہیں کرنے دیتا۔ انہوں نے کہا کہ میں چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کسٹمز انٹیلی جنس میں ہونے والی کرپشن کو صرف نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کی تقسیم کی حد تک نہ دیکھیں ڈی جی کی کرپشن کی وجہ سے سارا محکمہ کرپٹ ہوچکا ہے اگر چیف جسٹس آف پاکستان اس کا نوٹس لیں تو محکمے کے کئی شیر دل افسران انہیں تمام دستاویزی ثبوت فراہم کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان‘ سرگودھا ‘ فیصل آباد‘ سرائے مہاجر اور ڈی جی خان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی

سمگلرز کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے اور ماہانہ کروڑوں روپے بھتے کی شکل میں اور اربوں روپے کا سامان جعلی آکشن میں نیلام ہورہا ہے چونکہ ڈی جی اتنا طاقتور ہے کہ اس سے کوئی باز پرس نہیں کر سکتا اس لئے پاکستان کیلئے دیانتداری سے کام کرنے کی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان فوری طور پر نوٹس لیں تاکہ زیر عتاب دیانتدار افسروں اور ملازمین کا مستقبل بچایا جاسکے۔



کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…