جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا 350 ارب روپے سے زائد کا بجٹ 8 مئی کو پیش کیا جائے گا

datetime 29  اپریل‬‮  2018 |

کوئٹہ(آئی این پی ) بلوچستان کا آئندہ مالی سال 19-2018 کا صوبائی بجٹ 8 مئی کو پیش کیا جائے گا،بجٹ کے حجم کا تخمینہ 350 ارب روپے سے زائد ہوگا ، صوبے کا بجٹ پہلی بار خاتون مشیر خزانہ ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی پیش کریں گی۔ تفصیلات کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حجم کا تخمینہ 350 ارب روپے سے زائد ہوگا جس کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگئیں۔

صوبے کا بجٹ پہلی بار خاتون مشیر خزانہ ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی پیش کریں گی جنہوں نے کہا ہے کہ میری کوشش ہے کہ مخلوط حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے معاشرے کے تمام طبقوں تاجروں، زمینداروں، ڈاکٹرز، انجینئرز سے لے کر ریڑھی بانوں تک کو بجٹ میں شامل کیا جائے۔ذرائع کے مطابق نئے سال کا بجٹ بھی خسارے کا ہی ہوگا، خسارہ لگ بھگ پچاس ارب روپے تک ہونیکا امکان ہے جسے اخراجات میں کمی اور سادگی سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔بجٹ کی تیاریوں کے حوالے سے متعلقہ محکموں کے زیر اہتمام گزشتہ ہفتے پری بجٹ مشاورتی ورکشاپ کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں متعلقہ صوبائی حکام کے علاوہ سول سوسائٹی اور ماہرین منصوبہ بندی اور خزانہ نے شرکت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…