پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

تمہاری جرأت کیسے ہوئی میرے داماد کے ذریعے سفارش کروانےکی۔۔چیف جسٹس سے انکے داماد خالد کے ذریعے سفارش کروانے والے پولیس کے اعلیٰ افسر کا نام سامنے آگیا،کس کیس میں ہاتھ ہولا رکھنے کیلئے سفارش کروائی تھی؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 29  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پولیس افسر کی سفارش کرنے پر اپنے داماد خالد کو فوری طلب کرلیا۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان نے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کے بچوں کے حوالگی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی آئی جی کی جانب سے اپنے داماد کے ذریعے سفارش کرانے پر شدید اظہار برہمی کیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کس نے آپ کو مشورہ دیا کہ میرے فیملی ممبر سے سفارش کرائی جاسکتی ہے، آپ کی جرأت کیسے ہوئی میرے داماد سے مجھے سفارش کرانے کی۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کیسے سوچ لیا کہ چیف جسٹس پاکستان کو کوئی سفارش کرے گا، میں جہاد کر رہا ہوں اور آپ مجھے سفارش کرا رہے ہیں۔اس موقع پر ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ میں عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کے بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈی آئی جی کی جانب سے سفارش کروانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے ڈی آئی جی کی سفارش کرنے پر اپنے داماد خالدکو بھی فوری طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کس نے آپ کو مشورہ دیا کہ میرے فیملی ممبر سے سفارش کروائی جا سکتی ہے؟ آپ کی جرأت کیسے ہوئی میرے داماد سے سفارش کروانے کی۔آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ چیف جسٹس پاکستان کو کوئی سفارش کرے گا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں جہاد کر رہا ہوں اور آپ مجھے سفارش کرنے کا کہہ رہے ہیں۔جس کے بعد ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ میں عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…