جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

آپ گھر پر میرے بیٹے ہونگے یہاں چیف جسٹس کے سامنے ہیں ،جسٹس ثاقب نثار کا اپنے داماد سے مکالمہ، خالد رحمان نے سفارش کرانے والے کا نام بتا دیا

datetime 29  اپریل‬‮  2018 |

لاہور(سی پی پی) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے داماد نے ایک مقدمے میں پولیس افسر کی سفارش کرنے پر سپریم کورٹ سے معافی مانگ لی۔چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں ڈی آئی جی پنجاب ہائی وے پٹرول غلام محمود ڈوگر کے بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ڈی آئی جی کی جانب سے سفارش کروانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے ڈی آئی جی کی سفارش کرنے پر اپنے

داماد خالد رحمان کو فوری طور پر طلب کر لیا۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بتائیں کہ کس نے آپ کو مشورہ دیا کہ میرے رشتے دار سے مجھے سفارش کروائی جاسکتی ہے، آپ کی جرات کیسے ہوئی میرے داماد خالد سے مجھے سفارش کروانے کی، یہ آپ نے کیسے سوچ لیا کہ چیف جسٹس پاکستان کو کوئی سفارش کرے گا، میں جہاد کررہا ہوں اور آپ مجھے سفارش کروا رہے ہیں۔ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر نے اپنی اس حرکت پر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی لیکن چیف جسٹس نے معافی قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کی معافی نہیں چاہیے، وہ زرائع بتائیں جس نے آپ کو مجھے سفارش کرنے کا مشورہ دیا۔ چیف جسٹس نے اپنے داماد خالد رحمان کو فوری طور پر سپریم کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس کے حکم پر ان کے داماد خالد رحمان تھوڑی ہی دیر میں عدالت میں پیش ہوگئے۔چیف جسٹس نے داماد کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں آپ کو کس نے سفارش کا کہا، آپ میرے بیٹے گھر پر ہوں گے یہاں چیف جسٹس پاکستان کے سامنے موجود ہیں۔ خالد رحمان نے کہا کہ مجھے ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر نے سفارش کا کہا تھا، ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ میرے بیٹوں اور

سابق اہلیہ کا نام ای سی ایل میں ہی رہنا چاہیے، میں چیف جسٹس سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کی کیس کی مزید سماعت چیمبر میں ہوگی۔واضح رہے کہ ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر کی کینیڈین شہریت یافتہ سابق اہلیہ نے اپنا اور بچوں کا نام ای سی ایل میں شامل کروانے کے خلاف چیف جسٹس سے رجوع کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…