جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس نے مریم اورنگزیب پر بجلیاں گرادیں،ایسا حکم جاری کردیا جو وزیر مملکت اطلاعات کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

datetime 16  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیئرمین پیمرا کے انتخاب کیلئے سرچ کمیٹی کی تشکیل نو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کو نکال کر سیکریٹری اطلاعات کو شامل کرلیاہے۔ پیر کوسپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے ٗ

وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے، کمیشن میں نمایاں صحافی اور پی بی اے کے چیئرمین کو شامل کیا گیا ہے، کمیشن چیئرمین پیمرا کیلئے 3 ممبران کے پینل کا انتخاب کریگا۔اس دوران چیف جسٹس نے کہا کہ کہ یہ کام ہوتے ہوتے تو بہت وقت لگ جائیگا، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ کام 3 ہفتوں کے اندر ہوجائیگا۔عدالت نے چیئرمین پیمرا کے انتخاب کے لیے سرچ کمیٹی کی تشکیل نو کردی جس سے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کو نکال کر سیکریٹری اطلاعات کو شامل کیا گیاہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مریم اورنگزیب بیانات دینے میں مصروف ہوں گی، ان کے لیے کمیٹی کے لیے وقت نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔ نجی ٹی وی کے مطابق دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 2 روز قبل عدالت کے باہر نعرے لگائے گئے ٗ جب ہم نے آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ سنایا، یہاں عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگائے گئے ہیں، نااہلی کیس کے بعد ہی نعرے لگے، خواتین کو شیلٹر کے طور پر سامنے لے آتے ہیں، غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ابھی صبر اور تحمل سے کام لے رہے ہیں، کسی شیر کو میں نہیں جانتا۔ چیف جسٹس نے ججز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہیں اصل شیر۔

معزز چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اتنا احترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہیے، کسی کی تذلیل مقصود نہیں۔اس دوران جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ بات زبان سے بڑھ گئی ہے، میڈیاکی آزادی عدلیہ سے مشروط ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا کمزور ہوگا، اگر ہماری بات ٹھیک نہیں تو بولنا بھی بند کردیں گے، قانون سازوں کو قانون میں ترمیم کے لیے تجویز نہیں کرسکتے، پارلیمنٹ آرٹیکل 5 میں ترمیم نہ کرے تو کیا کریں؟ آرٹیکل 5 اور6 آئین کے آرٹیکل 19 سے مطابقت نہیں رکھتے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ لگتاہے حکومت کو کوئی خوف نہیں ٗحکومت کا پیمرا پر کنٹرول ختم کرناچاہتے ہیں، پیمرا آزاد ادارہ ہونا چاہیے، حکومت پر کوئی تلوار نہیں ہے لیکن یہ کام ہونا چاہیے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…