جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

‘زمین کے خاتمے میں 1000 سال باقی

datetime 16  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک )  برطانیہ کے معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان کے لیے ایک ہزار سال سے زیادہ اس زمین میں رہنے کے لیے گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان اپنی بقا چاہتا ہے تو اسے ایک ہزارسال کے اندر اندر کسی دوسرے سیارے پر بستیاں بسانی ہوں گی، ورنہ کرۂ ارض سے نوعِ انسانی کا نام ونشان مٹ جائے گا۔

معروف طبیعات دان اسٹیفن ہاکنگ نے پچھلے ہفتے سڈنی کے اوپیرا ہاؤس میں عوام کے ایک جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوعِ انسانی کو زمین پر مزید ایک ہزار سال تک رہنے کی مُہلت ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ ایک ہزار سال میں کوئی نئی دنیا آباد کرتا ہے یا فنا کا انتظار کرتا ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ کا خیال ہے کہ سیارہ زمین کی عمر ایک ہزار سال سے زیادہ نہیں رہ گئی ہے، اس لیے انہوں نے نوعِ انسانی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک ہزارسال کے عرصے میں کسی اور سیارے پر انسانی آبادی کا بندوبست کرلیں ورنہ کائنات سے ان کا نام و نشان معدوم ہوجائے گا۔ ان کے اس دعوے نے سائنسدانوں کے لیے کئی نئے سوالات پیدا کیے ہیں تاہم ابھی تک اس کے دعوے کی تائید یا مخالفت میں کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان نیچے دیکھنے کے بجائے اوپر دیکھے اور نئے سیارے تلاش کرے۔ یاد رہے کہ اسٹیفن ہاکنگ اس سے قبل فروری میں بھی اسی طرح کا ایک بیان دے چکے ہیں۔ اس وقت بھی ان کا کہنا تھا کہ انسان کوبہرحال اپنی بقاکے لیے ایک نئی دنیا بسانی ہوگی کیونکہ سیارہ زمین اب زیادہ عرصے تک اس کی میزبانی نہیں کرسکے گی۔ اسٹیفن ہاکنگ نے کیمبرج ونیورسٹی میں قائم اپنے دفتر سے سڈنی کے اوپیرا ہاؤس کے اجتماع سے خطاب کیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…