لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے ورکر بھی چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف میدان میں آ گئے ہیں اور چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے اور بیٹی کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے بعد مختلف افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، واضح رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیخ سفینہ نامی ایک صارف نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی بیٹی اور بیٹے کی چند تصاویر شیئر کی ہیں اور ان پر طرح طرح کی الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے،
سفینہ نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ اب یہ بات کنفرم ہوگئی ہے کہ چیف جسٹس کا بیٹا لندن کے ایک مہنگے اور پرائیویٹ لاء کالج میں زیر تعلیم ہے اور اس کی فیس ہزاروں پاؤنڈز ہے۔ سفینہ نے کہا کہ میرا ثاقب نثار سے سوال ہے کہ آپ کا بیٹا یہ سب کیسے افورڈ کر رہا ہے؟ نواز شریف سے تو رسیدیں مانگی جا رہی ہیں، آپ رسیدیں کب دیں گے؟۔ پھر ایک اور پوسٹ میں سفینہ نے لکھا کہ چیف جسٹس کا بیٹا اور بیٹی اتنی مہنگی لائف کیسے افورڈ کر سکتے ہیں، ابا جی کی ماہانہ آمدن میں؟ اوئے پاکستانیوں جاگواور دیکھو۔واضح رہے کہ گزشتہ روزسینئر صحافی و تجزیہ کار چوہدری غلام حسین نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف نے فوج کی اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ کیا جب جے آئی ٹی چل رہی تھی کہ فلاں ادارے کا آدمی ہمارے ساتھ صحیح رویہ نہیں رکھ رہا۔ چوہدری غلام حسین نے کہا تھا کہ ان دونوں باپ بیٹی نے عدلیہ اور فوج پر بیان دینے کے حوالے سے آپس میں کام بانٹا ہوا ہے۔ معروف صحافی نے کہاکہ چیف جسٹس ثاقب نثار کے کہنے پر کراچی کا کچرا اٹھایا جا رہا ہے اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنی اہلیہ کے ساتھ سمندر پر جا کر دیکھا کہ کیا کراچی میں واقعی صفائی کا کام ہو رہا ہے یا نہیں، اس موقع پر سینئر صحافی نے کہا کہ ن لیگ نے چیف جسٹس کو ہدف بنا لیا ہے اور ان کی اہلیہ اور بیٹیوں کی تصاویر لے کر ان کے خلاف ایک مہم شروع کر دی ہے اور ان کا پورا منصوبہ ہے کہ سب سے پہلے چیف جسٹس ثاقب نثار کے خاندان کی کردار کشی کریں گے اور اس کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار کی بھی اسی طریقے سے کردار کشی کی جائے گی۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار چوہدری غلام حسین نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف مہم شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اس پر پیمرا اور سپریم کورٹ کو اس مہم کے خلاف سخت ایکشن لینا ہو گا۔























































