جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ڈی سی گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو پر کیا دباﺅ تھا؟وہ کون سا ایسا کام تھا جو کیا تو شہبازشریف نے تھا لیکن اس کی ادائیگی سہیل ٹیپو نے کرنی تھی؟قریبی دوستوں کے چونکادینے والے انکشافات‎

datetime 24  مارچ‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) جواں سال ڈی سی گوجرنوالہ سہیل احمد ٹیپو کی موت کے ذمہ دار شہباز شریف اور خرم دستگیر نکلے، سینئر صحافی ہارون الرشید کے تہلکہ خیز انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ، تجزیہ کار و کالم نگار ہارون الرشید نے نجی ٹی وی پروگرام میں گوجرانوالہ کے جواں سال ڈی سی سہیل احمد ٹیپو کی موت سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی مصدقہ ذرائع کے مطابق کچھ روز پہلے مبینہ طور پر خود کشی کرنے والے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل ٹیپو نے اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ ان کے ذہن پر

دو چیزوں کا خوفناک دباؤ ہے۔ایک تو یہ کہ شہباز شریف نے کوئی جلسہ کیا ہے جس کے ایک کروڑ روپے کے اخراجات میں نےادا کرنے ہیں، دوسرا وزیر دفاع خرم دستگیر نے سرکاری زمین سستے داموں اپنے نام کرانے کیلئے ایڈیشنل کمشنر سے دستخط کرالیے ہیں جس کے بعد وہ فائل میری میز پر پڑی ہے لیکن میں اس پر دستخط نہیں کرنا چاہتا۔ہارون الرشید نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نے خودکشی کی یا انہیں قتل کیا گیا ہے، اس کا تعین عدالتیں اور تحقیقات کرنے والے کریں۔واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل ٹیپو کی ان کے گھر سے پنکھے سے لٹکتی لاش ملی تھی، پہلے اسے خودکشی سمجھا جاتا رہا لیکن جب ان کی لاش کی تصویر سامنے آئی تو یہ واضح ہوا کہ ان کے ہاتھ پیچھے کی جانب بندھے ہوئے تھے جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز سہیل احمد ٹیپو کی موت کو خودکشی قرار دینے کیلئے ان کا پوسٹمارٹم کرنے کیلئے پنجاب پولیس کے افسران کے ساتھ ایک کانسٹیبل کے ذریعےگلے میں پھندا ڈال کر خودکشی سے قبل ہاتھ باندھنے کی فرضی پریکٹس بھی کرائی گئی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ ڈاکٹر سہیل احمد ٹیپو کی موت کو قتل کے بجائے خودکشی قرار دیں جبکہ سول لائن تھانہ گوجرانوالہ کے ڈیوٹی آفیسر نے بھی پوسٹمارٹم رپورٹ موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اس کا کہنا تھا کہ پوسٹمارٹم رپورٹ موصول ہو گئی ہے جبکہ اس حوالے سے افسران بالا ہی میڈیا کو بریفنگ دینگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…