ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ازبک شادیوں میں فضول خرچی بند،مہمانوں کی تعداد150سے کم ہونا ضروری قرار

datetime 18  مارچ‬‮  2018 |

تاشقند(این این آئی)ازبکستان نے شادی بیاہ پر فضول خرچی روکنے کے لیے نئے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت شادیوں میں گوشت کا کم استعمال کرنا، مہمانوں کی تعداد 150 سے تجاوز نہ کرنا اور شادیوں میں زیادہ تعداد میں گلوکاروں اور بڑی تعداد میں گاڑیوں کی بکنگ کرنے پر پابندی لگانے کی تجاویز دی گئی ہیں،میڈیارپورٹس کے مطابق ازبکستان حکومت نے ایک نوٹ جاری کیا ہے۔

وہ ملک میں ہونے والی شادی کی تقریبات پر سخت پابندیاں لگانے والی ہیں،حکومتی دستاویز میں متعارف کیے جانے والے نئے فیصلوں کے مطابق شادیوں میں گوشت کا کم استعمال کرنا، مہمانوں کی تعداد 150 سے تجاوز نہ کرنا اور شادیوں میں زیادہ تعداد میں گلوکاروں اور بڑی تعداد میں گاڑیوں کی بکنگ کرنے پر پابندی لگانے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ جس کے بعد ملک بھر کے سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ایک ایسے ملک میں شادیوں میں 400 مہمانوں اور بڑی تعداد میں گاڑیوں کا ہونا معمول کی بات ہے جہاں تقریباً 13 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ازبکستان میں اکثر شادیوں پر 20000 ڈالرز تک خرچہ آتا ہے جبکہ اس ملک میں عام طور پر لوگوں کی تین اولادیں ہوتی ہیں اور ان کی ماہانہ آمدنی ایک سو سے تین سو ڈالر تک ہوتی ہے۔شادیوں پرگوشت استعمال کرنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ آپ کسی غریب شخص کے گھر میں رنگ روغن کروا دیں یا اس کے لیے ٹی وی خرید لیں۔ ایک عام شخص جو سرکاری نوکری سے تنخواہ کماتا ہو اور اس کی چار بیٹیاں ہوں، وہ ان کی شادی کرنے کے بجائے خود کشی کر لے گا کیونکہ اس کے پاس شادی کرانے کے پیسے ہی نہیں ہوں گے۔صدر شوکات مرزایوو کے بیان کے بعد سامنے آنے والی دستاویز کی عوام میں کافی پذیرائی ہوئی ہے۔فیس بک کے ایک صارف نے لکھاکہ یہ بہت اچھی تجویز ہے۔ خدا آپ کے نصیب اونچے کرے۔ یہ فیصلہ فضول خرچی روکنے میں مدد دے گا اور ہر کوئی ایک جیسی شادی کی تقریب منعقد کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…