جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

آئی جی کے اہم عہدے کو حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، ثاقب نثار

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آئی جی کے اہم عہدے کو حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے‘ آرٹیکل 8کے تحت آئین سے متصادم کوئی قانون نہیں بن سکتا‘ جس قانون سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی وہ کالعدم ہوگا‘ صوبوں میں دیگر اعلیٰ عہدوں کی مدت تین سال ہے تو آئی جی کی مدت ملازمت تین سال کیوں نہیں ہوسکتی؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہر قانون کا جائزہ آئین کی بنیاد سے لیا جاتا ہے۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اتنے اہم عہدے کو حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ کیا یہ حکومت کی مرضی ہے کہ جب چاہے آئی جی کو نکال دے۔ وکیل سندھ حکومت فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئین کے تحت قوائد بنانے کا اختیار متعلقہ محکموں کو ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 8کے تحت آئین سے متصادم کوئی قانون نہیں بن سکتا جو قانون بنیادی حقوق کے خلاف ہو وہ برقرار نہیں رہ سکتا۔ جس قانون سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی وہ کالعدم ہوگا۔ وکیل نے کہا کہ حکومت کو قوائد بنانے کا اختیار ہے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہر قانون کا جائزہ آئین کی بنیاد سے لیا جاتا ہے وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ حکومت کو قوائد بنانے کا اختیار بھی آئین فراہم کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ یہ بتادیں کیا آئین سے متصادم قوانین بن سکتے ہیں؟ وکیل سندھ حکومت نے کہا کہ اگر قوائد آئین کے منافی ہوں تو کالعدم ہوسکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے آپ گزشتہ دلائل بھول گئے ہیں صوبوں میں دیگر اعلیٰ عہدوں پر مدت تین سال کی ہے اس تناظر میں آئی کی مدت ملازمت تین سال کیوں نہیں ہوسکتی۔ وکیل نے کہا کہ آئی جی کی مدت کا بنیادی حقوق سے کیا تعلق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…