جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

دعوےجھوٹے ثابت ہونے پر ڈاکٹر شاہد مسعود کی سپریم کورٹ سے معافی کی استدعا۔۔معافی کا وقت گزر گیا، ڈاکٹر صاحب اب تو۔۔چیف جسٹس نے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں زینب قتل کیس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کے قاتل عمران کے بینک اکائونٹس کے انکشافات سے متعلق کیس کی سماعت ، ڈاکٹر شاہد مسعود نے معافی مانگنے کی پیشکش کر دی ، جے آئی ٹی رپورٹ میں آپ کے الزامات درست ثابت نہیں ہوئے، میں نے آپ کے پروگرام کی ویڈیو بار بار دیکھی ،آپ نے بار بار از خود نوٹس لینے کی بات کی، آپ نے کہا تھا

کہ اگر دعوے غلط ثابت ہوں تو فلاں فلاں ادارے پھانسی پر لٹکا دیں، ہم نے اسی نکتہ نظر سے ازخود نوٹس لیا، آپ نے عدالت کے باہر ایک بار پھر دعوئوں کو دہرایا، آپ نے سنسنی پھیلائی ہے، معافی کا وقت گزر چکا ہے،آپ اپنا مقدمہ لڑیں، پہلے غلط بیانی کو تسلیم کریںپھر معافی مانگیں، تسلیم کرنے کے بعد معافی مانگنے پر دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے،مقدمے کا دفاع کریں گے تو قانونی نتائج بھی ہوں گے، چیف جسٹس نے تحریری اعتراضات جمع کروانے کے لیے ڈاکٹر شاہد مسعود کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے نجی ٹی وی چینل کو نوٹس جاری کر دیا، دو روز میں جواب جمع کروانے کی ہدایت۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں زینب قتل کیس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کے قاتل عمران کے بینک اکائونٹس کے انکشافات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ شاہد مسعود کے دعوئوں پر بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی گئی۔ سماعت میں چیف جسٹس نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب جے آئی ٹی کی رپورٹ آ گئی ہے اور اس رپورٹ کے مطابق آپ کے الزامات درست نہیں ہیں۔میں نے آپ کے پروگرام کی ویڈیو بار بار دیکھی ،آپ نے بار بار از خود نوٹس لینے کی بات کی ۔ الزام جھوٹے ثابت ہونے پر آپ نے پھانسی کی بات بھی کی ۔آپ کا کہنا تھا کہ اگر الزامات غلط ثابت ہوں

تو فلاں فلاں ادارے پھانسی پر لٹکا دیں ، کوئی ابہام نہ رہے تو آپ کی سی ڈی دوبارہ دیکھ لیتے ہیں۔ الزامات کی شدت کو دیکھتے ہوئے از خود نوٹس لیا۔آپ کی استدعا پر جے آئی ٹی تشکیل دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے الزامات کو تقویت نہیں ملی، کیا آپ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر تحریری اعتراضات دینا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کیس کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں؟ جس پر وکیل ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ

جے آئی ٹی کی رپورٹ ابھی تک نہیں ملی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مقدمے کا دفاع کریں گے تو قانونی نتائج بھی ہوں گے۔معافی کا وقت گزر چکا ہے،آپ اپنا مقدمہ لڑیں۔ عدالت میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے معافی مانگنے کی پیشکش کر دی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پہلے غلط بیانی کو تسلیم کریںپھر معافی مانگیں، تسلیم کرنے کے بعد معافی مانگنے پر دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ یہ معاملہ ڈارک ویب کا ہے۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ میں ڈارک ویب پر گیا ہوں وہاں پاکستان سے متعلق لنکس موجود ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عدالت نے جے آئی ٹی کی رپورٹ ڈاکٹر شاہد مسعود کے وکیل کو فراہم کرنے کا حکم دیا۔کل تک تحریری اعتراضات دے دیں ہم کیس سن لیں گے ،

آپ نے جو کہا ہم اس تک محدود رہیں گے۔ اس موقع پر ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت میں چار صفحات پر مشتمل دستاویزات بھی پیش کروائیں۔ چیف جسٹس نے تحریری اعتراضات جمع کروانے کے لیے ڈاکٹر شاہد مسعود کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے مزید سماعت12مارچ تک ملتوی کر دی۔عدالت نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام پر نجی ٹی وی چینل کوبھی نوٹس جاری کرتے ہوئے نوٹس پر دو روز میں جواب جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…