بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

غذا میں معمولی غلطی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

برطانیہ (مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ صحت کے لیے فائدہ مند غذائیں استعمال کرتے ہیں مگر ایک معمولی احتیاط نہیں اپناتے تو ہارٹ اٹیک، فالج یا گردوں کے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ انتباہ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ امپرئیل کالج لندن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ غذا چاہے جتنی بھی صحت بخش ہو، مگر نمک کی زیادہ مقدار کو اس میں ملانا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

نمک کی کتنی مقدار صحت کے لیے محفوظ؟ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لوگوں کو اپنی غذا میں نمک کی مقدار کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ ہائی بلڈ پریشر کا مرض شکار بناکر دیگر جان لیوا بیماریوں کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہائی بلڈ پریشر ہی ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت دیگر امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ پھلوں اور سبزیوں میں موجود وٹامنز اور منرلز خون کی شریانوں پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں اور بلڈ پریشر کی سطح کم کرتے ہیں، جبکہ یہ عادت زیادہ نمک کھانے کی عادت کے نقصانات کی بھی تلافی کرتی ہے۔ تاہم اب نئی تحقیق میں انتباہ کیا گیا ہے کہ زیادہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بھی نمک کو زیادہ کھانے سے ہونے والے نقصان کی تلافی نہیں کرتا۔ اس تحقیق کے دوران امریکا، برطانیہ، جاپان اور چین کے ہزاروں افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا۔ نمک جسم پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟ محققین نے پیشاب کے نمونوں میں نمک اور پوٹاشیم کے امتزاج کا تجزیہ کیا اور یہ دریافت کیا کہ ہائی بلڈ پریشر اور نمک زیادہ کھانے میں تعلق موجود ہے، چاہے لوگ پوٹاشیم اور دیگر غذائی اجزاءکی زیادہ مقدار ہی کیوں نہ جزو بدن بناتے ہوں۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ عام طور پر دن بھر میں اوسطاً 10.7 گرام مقدار نمک لوگ استعمال کرتے ہیں، حالانکہ عالمی ادارہ صحت نے چھ گرام یا ایک چائے کے چمچ کو صحت کے لیے فائدہ مند قرار دیا ہے۔

نمک زیادہ کھانا بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ دیگر جان لیوا امراض کا باعث بن جاتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے غذا میں نمک کی کم مقدار کے استعمال کی اہمیت سامنے آئی ہے، اس کے بغیر چاہے جتنی بھی صحت بخش غذا کا استعمال کیا جائے، وہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ہائپرٹینشن میں شائع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…