پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

حیدرآباد: ٹائیفائیڈ بخار کےخلاف انٹی بائیوٹکس ادویات غیر موثر

datetime 21  فروری‬‮  2018 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)  طبی محققین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں ٹائیفائیڈ بخار کو ختم کرنے والی ادویات ‘سپربگ’ نامی انفیکشن کی وجہ سے غیر موثر ہوگئی ہیں جس کے باعث ٹائیفائیڈ بخار کے جرثموں کا علاج تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔ خیال رہے کہ طبی دنیا میں سپر بگ ایسا انفیکشن کہلاتا ہے جس کے خلاف دوائیاں اثر نہیں کرتیں۔ مرغی کے گوشت میں مضر صحت ادویات کے ذرات موجود ہونے کا انکشاف۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ویلکم سینگر انسٹی ٹیوٹ سے منسلک طبی سائنسدانوں نے ٹائیفائیڈ کے جرثوموں کا تجزیہ کرکے بتایا کہ ٹائیفائیڈ کی جینز تبدیل ہو کر ڈی این اے کا حصہ بنتی جارہی ہیں جس کی وجہ سے اب متعدد اینٹی بائیوٹکس ادویات غیر موثر ثابت ہوں گی۔ سینگر ٹیم کے ساتھ کام کرنے والے آغا خان ہسپتال کے ماہرین نے بتایا کہ پاکستان کے شہر حیدرآباد میں نومبر 2016 میں ٹائیفائیڈ سپربگ کا انکشاف ہوا جو تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان میں ادویات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ سرکاری اعداد وشمار میں متعلقہ مرض سے متاثر ہو کر موت کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد کا ذکر نہیں تاہم مقامی میڈیا نے محکمہ صحت کے حوالے سے بتایا کہ صرف حیدرآباد میں سال 17-2016 کے درمیانی عرصے میں 800 سے زائد ناقابل علاج ٹائیفائیڈ کیسز منظر عام پر آچکے ہیں۔ طبی محققین کے مطابق ‘ٹائیفائیڈ کا یہ بیکٹریا اس قدر طاقت ور ہوچکا ہے کہ اس پر آزمائی گئی پانچ اینٹی بائیوٹکس ادویات ناکارہ ہو چکی ہیں’۔ ادویات سے متعلق کیس: ’سندھ ہائی کورٹ حکم امتناعی کی درخواستوں پر 15 روز میں فیصلہ کرے‘ سینگر انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ڈاکٹر ایلیزبتھ کلیم کا کہنا تھا کہ ‘یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ٹائیفائیڈ مزاحمت کار جرثوموں کے خلاف طبی کوششیں اس وقت ناکامی کا شکار ہوئیں’۔ ٹائیفائیڈ بخار ‘سالمونیلا ٹائی فی’ نامی ایک جرثومے سے پھیلتا ہے جو عمومی طور پر آلودہ پانی، کھانے سے ہوتا ہے اور اس کی علامتوں میں متلی، بخار، پیٹ میں درد اور سینے پر گلابی دھبے شامل ہیں، اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو موت یقینی ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…