ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

انصاف ہو تو ایسا،فیصلے سے قبل ملزم عمران کے آخری الفاظ کیا تھے

datetime 17  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں زینب قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا جس کے تحت عمران علی کو 4 مرتبہ سزائے موت کا حکم دیا گیا ۔ اس موقع پر پراسیکیوٹر جنرل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انسدادا دہشتگردی عدالت کے جج جسٹس سجاد احمد نے فیصلہ سنانے سے قبل عمران علی سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں اللہ کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ یہ بد فعل میں نے ہی کیا ہے۔ جس کے بعد عمران علی کو 4 مرتبہ سزائے

موت دینے کا حکم دیا گیا۔پراسیکوٹر جنرل نے مزید کہا کہ عدالت نے سیریل کلر عمران کو صرف ابھی زینب قتل کیس کے سلسلے میں سزا سنائی ہے ۔ سیریل کلر عمران قصور کی 9بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے ملزم ہے جن میں سے 7بچیاں قتل جبکہ 2بچیاں زندہ ہیں ۔ کیونکہ ہر کیس کے گواہ ، ثبوت اور شواہد مختلف ہیں اس لئے ہر کیس کا الگ ٹرائل ہو گا۔ احتشام قاد ر کا کہنا تھا کہ زینب قتل کیس میں عدالتی فیصلے کے مطابق سیریل کلر عمران کو زینب کو اغوا کرنے پر سزائے موت،زینب کیساتھ ریپ پر سزائے موت،زینب کو قتل کرنے پر سزائے موت،زینب کو اغوا کرنے پر سزائے موت دی گئی ہے یوں سیریل کلر عمران کو زینب قتل کیس میں چار بار سزائے موت دی گئی۔ عدالت نے زینب کے ساتھ غیر فطری ریپ پر سیریل کلر عمران کو عمر قید اور 10لاکھ روپے جرمانہ، زینب کی لاش کوڑے کے ڈھیر میں پھینکنے پر 7سال قید اور 10لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قصور کی ننھی زینب کے قتل کے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت سنادی۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد نے کیس کا فیصلہ سنایا۔زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے خلاف جیل میں روزانہ 9 سے 11 گھنٹے سماعت ہوئی،

اس دوران 56 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور 36 افراد کی شہادتیں پیش کی گئیں۔سماعت کے دوران ڈی این اے ٹیسٹ، پولی گرافک ٹیسٹ اور 4 ویڈیوز بھی ثبوت کے طور پر پیش کی گئیں۔15 فروری کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع قصور سے اغواء کی جانے والی 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا، جس کی لاش گذشتہ ماہ 9 جنوری

کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی۔زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور قصور میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق بھی ہوئے۔بعدازاں چیف جسٹس پاکستان نے واقعے کا از خود نوٹس لیا اور 21 جنوری کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے زینب قتل کیس میں پولیس تفتیش پر عدم اعتماد

کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات کے لیے تفتیشی اداروں کو 72 گھنٹوں کی مہلت دی۔جس کے بعد 23 جنوری کو پولیس نے زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا، جس کی تصدیق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی کی۔ملزم عمران کے خلاف کوٹ لکھپت جیل میں ٹرائل ہوا، جس پر 12 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی اور 15 فروری کو انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیاتھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…