ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پاک چین دوستی کا انمٹ نشان سی پیک دائو پر لگ گیا، بڑے اسلامی عرب ملک نے گوادربندرگاہ کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارتی فوج کو اپنی بندرگاہ دیدی

datetime 14  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بندرگاہ گوادر اور بحر ہند میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوف کھا کر اور مقابلہ کرنے کیلئے بھارت نے عرب ملک اومان سے انتہائی اہم بندرگاہ دوقم کی رسائی حاصل کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس وقت عرب ملک اومان کے دورے پر ہیں جس دوران انہوں نے سلطان سید قابوس بن سید السید سے ملاقات کی اور اس موقع پر دونوں کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس میں بھارت کو دوقم بندرگاہ

تک رسائی بھی دی گئی ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں پاکستان کی مقامی ویب سائٹ کےذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس معاہدے کے مطابق بھارتی جہازوں کی مرمت کیلئے دوقم پورٹ اور ڈرائےڈاک کی خدمات بھی بھارت کو حاصل ہونگی۔ دوقم کی بندرگاہ عمان کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے دراصل یہ ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کے قریب ترین واقع ہے۔ حال ہی میں دوقم بندرگاہ پر بھارت کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، گزشتہ سال ستمبر میں بھارت نے عرب سمندر کے مغرب میں اپنی آبدوز اسی بندرگاہ پر تعینات کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…