جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شریعت میں خواتین کیلئے مقصود پردہ ہے، برقع نہیں، سعودی عالم شیخ عبداللہ المطلق، سعودی عرب میں ایک اور پابندی ختم کرنے کی تیاریاں، حیرت انگیز اعلان کر دیا گیا

datetime 10  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین کے لیے برقع پہننے کی پابندی لازمی نہیں ہے، اس بات کا اظہار سعودی عرب میں سینئر علماء کمیٹی کے رکن شیخ ڈاکٹر عبداللہ المطلق نے ایک عرب چینل کے پروگرام میں کیا، ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے برقع پہننے کی پابندی لازمی نہیں

اس لیے کہ شریعت میں مقصود صرف پردہ ہے، یہ پردہ برقع کے ذریعے کیا جائے یا کسی اور طریقے سے، ڈاکٹر عبداللہ المطلق نے کہا کہ عالم اسلام میں نوے فیصد باوقار خواتین برقع استعمال نہیں کرتیں بلکہ دیگر چیزوں کے استعمال سے پردہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہم دین دار اور دعوت الی اللہ انجام دینے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد کو دیکھتے ہیں کہ وہ برقعے کا استعمال نہیں کرتی ہیں بلکہ وہ دیگر طریقوں سے پردہ کرتی ہیں، یہ اس بات کی اچھی دلیل ہے کہ خواتین کو برقعے کی پابندی کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ برقع ایک طرح کا پردہ ہے اور یہ اُس جلباب میں داخل ہے جس کا حکم اللہ تعالی نے خواتین کو قرآن کریم کی سورہ الاحزاب آیت 59 میں دیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عورت پردے کے لیے برقعے کو سر پر رکھّے یا کندھے پر ڈالے یا کسی دوسرے طریقے سے پردہ کرے اس میں کوئی حرج نہیں مقصود پردہ ہے۔ خواتین کے لیے برقع پہننے کی پابندی لازمی نہیں ہے، اس بات کا اظہار سعودی عرب میں سینئر علماء کمیٹی کے رکن شیخ ڈاکٹر عبداللہ المطلق نے ایک عرب چینل کے پروگرام میں کیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…