جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیل کی جانب سے مصر پرخفیہ فضائی حملے مصری صدر السیسی کی رضا مندی سے ہوئے ، نیو یارک ٹائمز کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) گزشتہ ہفتے امریکہ کے اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک خبردی جس کی شہ سرخی خفیہ اتحاد، قاہرہ کی رضا مندی سے اسرائیل کے مصر میں فضائی حملے تھی، بی بی سی رپورٹ کے مطابق یہ خبر ڈیوڈ ڈی کرکپیٹرک نے دی، انہوں نے اس خبر میں اس غیرمعمولی اور انتہائی خفیہ فوجی تعلقات کی تفصیلات پیش کیں، انہوں نے لکھا کہ دو سال سے زائد عرصے سے بے نشان اسرائیلی ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور جیٹ طیارے ایک مہم کے تحت مصر کے اندر 100 سے زیادہ فضائی حملے کر چکے ہیں،

ان میں سے کئی حملے ہفتے میں ایک سے زیادہ بار کیے گئے۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق ان سب کارروائیوں کے لیے اسرائیل افواج کو مصر کے صدر السیسی کی اجازت حاصل تھی۔ مصر کا اسرائیل کے ساتھ 1979ء میں امن معاہدہ ہوا اور اس معاہدے کو عموماً سرد امن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اب بھی دونوں ممالک میں کسی قسم کا اشتراک ہی نادر ہے چہ جائیکہ فضائی حملے کیے جائیں۔ صحرائے سینا میں کئی حملوں کی ذمہ داری شدت پسند گروہوں نے قبول کی، اس ساری کہانی کا حاصل یہ تھا کہ مصری فوج صحرائے سینا میں اسلامی شدت پسندوں سے نمٹنے میں مشکلات محسوس کر رہی تھی اسی وجہ سے اس نے اسرائیل سے مدد طلب کی۔ اس تعلق اور تعاون کا دونوں ممالک کو ہی فائدہ تھا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قاہرہ کے لیے اسرائیل مداخلت دراصل مصری فوج کی مدد تھی جو اسے خطے میں شدت پسندوں کے خلاف پانچ سال سے جاری لڑائی کے دوران قدم جمانے میں ملی۔ اسرائیل کی جانب سے یہ فضائی حملے اس کی اپنی سرحدوں کے تحفظ کو تقویت دینے اور ہمسائیہ ملک کی سلامتی اور مستحکم کرنے کے مترادف ہیں۔ بی بی سی رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ پوری کی پوری خبر اسرائیل اور مغربی ذرائع کی معلومات پر مبنی ہے، نیو یارک ٹائمز کی اس خبر نے مصر کے میڈیا میں اضطراب پیدا کر دیا اور مصر میں سرکاری دباؤ کے زیر اثر

کام کرنے والے ذرائع ابلاغ نے اس خبر کو غیر پیشہ ورانہ صحافت اور جعلی قرار دے دیا۔ رپورٹ کے مطابق صحرائے سینا میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف حال ہی میں کئی کارروائیاں کی گئیں، مصری فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف صرف مصر کی فوج ہی لڑ رہی ہے۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق اگر ایسے فوجی تعاون کی بات سچ ہے تو مصری حکام کے لیے یہ نہایت ہی حساس معاملہ ہے مگر دوسری طرف فضائی حملوں کی خبروں پر جن میں ڈرون اور طیاروں کے حملے دونوں ہی شامل تھے ان کے بارے میں حیران کن امر یہ تھا کہ آخر یہ حملے کون کر رہا ہے۔ بی بی سی رپورٹ میں کہنا ہے کہ یہ خبر خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں درست دکھائی دیتی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…