جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب نے لیبر سسٹم کی خلاف ورزی پر بڑی سزاؤں کا اعلان کردیاگیا

datetime 6  فروری‬‮  2018 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب میں محنت اور سماجی ترقی کے وزیر علی الغفیص نے مملکت میں لیبر سسٹم کی خلاف ورزیوں اور سزاؤں کے نئے چارٹ کی توثیق کر دی ۔عرب ٹی وی کے مطابق اگر آجر نے غیر سعودی ورکر کو ورک پرمٹ میں دیے گئے پیشے کے سوا کسی دوسرے پیشے میں کام کروایا یا پھر لیبر آفس میں ادارے کا کھاتہ نہ کھلوایا یا ادارے کی معلومات کی تجدید نہ کرائی تو ایسی صورت میں 10 ہزار ریال جرمانہ

عائد کیا جائے گا۔آجر کی جانب سے ورکر کی مرضی کے بغیر اس کا پاسپورٹ یا اقامہ یا میڈیکل انشورنس کارڈ اپنے پاس رکھنے کی صورت میں2 ہزار ریال جرمانہ لاگو ہو گا۔ اسی طرح ادارے کے قواعد و ضوابط نہ ہونے یا ان پر کاربند نہ ہونے کی صورت میں جرمانے کی مالیت 10 ہزار ریال ہو گی۔ آجر کی جانب سے ماہانہ بنیادوں پرفائل اپلوڈ نہ کرنے کی صورت میں 10 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح ادارے کی جانب سے ورکروں کے لیے مقررہ چھٹیوں کے نظام پر عمل درامد نہ کرنے پر جرمانے کی رقم 10 ہزار ریال ہو گی۔ علاوہ ازیں سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق پیشہ ورانہ انتظامی امور کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی صورت میں 15 ہزار ریال جرمانہ ہو گا۔وزیر محنت کے فیصلے کے مطابق ایک ہی نوعیت کی خلاف ورزی کے دْہرائے جانے کی صورت میں دی جانے والی سزا ہر مرتبہ گزشتہ خلاف ورزی سے دْگنی ہو جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والے پر لازم ہو گا کہ وہ جرمانہ یا سزا لاگو ہونے کے بعد ایک ماہ کے اندر اس کو پورا کرے۔ مذکورہ مدت کے اندر ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے خلاف ورزی کا دْہرانا شمار کیا جائے گا جس کے نتیجے میں سزا بھی دْگنی ہو جائے گی۔وزارت محنت نے واضح کیا کہ ورک مارکیٹ کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق وہ خلاف ورزیوں اور سزاؤں کے چارٹ کی تجدید کرتی رہتی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…