جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی پالیسی درست نہیں، افغانستان کی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار خود ہم بھی ہیں،اگر اقتدار طالبان کے پاس ہوتا تو۔۔! حامد کرزئی نے بڑا اعتراف کرلیا

datetime 2  فروری‬‮  2018 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق افغان صدر حامد کرزئی نے روایتی ہرزہ سرائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گردی کی جڑیں افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہیں، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے طالبان سے بات چیت نہ کرنے کی پالیسی کے نتیجے میں افغانستان کی لڑائی طول پکڑے گی، صدر اشرف غنی اور دیگر افغان قیادت کے پاس اختیارات کا فقدان ہے، جبکہ اگر اقتدار طالبان کے پاس ہوتا ’’تو وہ افغان عوام کے ساتھ امن قائم کرنے میں ضرور کامیاب ہوتے،

افغانستان کی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار خود ہم بھی ہیں، جب کہ ہمارے برے حالات کے ذمہ دار امریکہ اور پاکستان بھی ہیں،امریکی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں انہوں نے الزام عائدکیاکہ دہشت گردی کی جڑیں افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہیں اور یہ کہ پاکستان کے خلاف اقدام کیا جائے،کرزئی نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف دباؤ ڈالنے کی پالیسی کی حمایت کی، اْنھوں نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے بیان کی حمایت کرتے ہیں جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے کام لیتا رہا ہے۔ٹرمپ کے اس بیان پر کہ افغانستان میں لڑائی جاری رہ سکتی ہے سابق افغان صدر نے کہا کہ یہ پالیسی سریحاً غلط ہے، جس کی میں سختی سے مخالفت کرتا ہوں۔اْنھوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان میں امن کی ضرورت ہے اور ہم مزید جنگ و جدل نہیں چاہتے۔ حامد کرزئی نے کہا کہ صدر اشرف غنی اور دیگر افغان قیادت کے پاس اختیارات کا فقدان ہے، جبکہ اگر اقتدار طالبان کے پاس ہوتاتو وہ افغان عوام کے ساتھ امن قائم کرنے میں ضرور کامیاب ہوتے۔بقول اْن کے طالبان کی نچلی سطح امن کی حامی ہے، جب کہ اْن کی قیادت اور اس کا اصل کنٹرول بیرون ملک سے ہوتا ہے۔اْنھوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار خود ہم بھی ہیں، جب کہ ہمارے برے حالات کے ذمہ دار امریکہ اور پاکستان بھی ہیں۔ اْنھوں نے تجویز دی کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ ایک جب کہ پاکستان کے ساتھ دوسرا انداز اپنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…