اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

امریکی پالیسی درست نہیں، افغانستان کی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار خود ہم بھی ہیں،اگر اقتدار طالبان کے پاس ہوتا تو۔۔! حامد کرزئی نے بڑا اعتراف کرلیا

datetime 2  فروری‬‮  2018 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق افغان صدر حامد کرزئی نے روایتی ہرزہ سرائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گردی کی جڑیں افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہیں، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے طالبان سے بات چیت نہ کرنے کی پالیسی کے نتیجے میں افغانستان کی لڑائی طول پکڑے گی، صدر اشرف غنی اور دیگر افغان قیادت کے پاس اختیارات کا فقدان ہے، جبکہ اگر اقتدار طالبان کے پاس ہوتا ’’تو وہ افغان عوام کے ساتھ امن قائم کرنے میں ضرور کامیاب ہوتے،

افغانستان کی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار خود ہم بھی ہیں، جب کہ ہمارے برے حالات کے ذمہ دار امریکہ اور پاکستان بھی ہیں،امریکی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں انہوں نے الزام عائدکیاکہ دہشت گردی کی جڑیں افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہیں اور یہ کہ پاکستان کے خلاف اقدام کیا جائے،کرزئی نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف دباؤ ڈالنے کی پالیسی کی حمایت کی، اْنھوں نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے بیان کی حمایت کرتے ہیں جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے کام لیتا رہا ہے۔ٹرمپ کے اس بیان پر کہ افغانستان میں لڑائی جاری رہ سکتی ہے سابق افغان صدر نے کہا کہ یہ پالیسی سریحاً غلط ہے، جس کی میں سختی سے مخالفت کرتا ہوں۔اْنھوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان میں امن کی ضرورت ہے اور ہم مزید جنگ و جدل نہیں چاہتے۔ حامد کرزئی نے کہا کہ صدر اشرف غنی اور دیگر افغان قیادت کے پاس اختیارات کا فقدان ہے، جبکہ اگر اقتدار طالبان کے پاس ہوتاتو وہ افغان عوام کے ساتھ امن قائم کرنے میں ضرور کامیاب ہوتے۔بقول اْن کے طالبان کی نچلی سطح امن کی حامی ہے، جب کہ اْن کی قیادت اور اس کا اصل کنٹرول بیرون ملک سے ہوتا ہے۔اْنھوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار خود ہم بھی ہیں، جب کہ ہمارے برے حالات کے ذمہ دار امریکہ اور پاکستان بھی ہیں۔ اْنھوں نے تجویز دی کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ ایک جب کہ پاکستان کے ساتھ دوسرا انداز اپنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…