جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’زینب نے جب اپنی ماں کو پکارا ہو گا تو اللہ تیرا عرش بھی تورویا ہو گا‘‘ پی ٹی آئی کے علی محمد خان کی قومی اسمبلی میں تقریر نے ہر کسی کو رلا دیا

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ننھی زینب کے قتل نے جہاں پاکستان کے عام عوام کو سوگوار کر دیا ہے وہیں سیاستدان بھی افسردہ نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے علی محمد خان کی قومی اسمبلی میں تقریر نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔تقریر کی ویڈیو انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہونے لگی۔ علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت ننھی بچی نے جب آخری بار اپنے

ماں باپ کو پکارا ہو گا، اپنی ماں کو پکارا ہو گا، اللہ تیرا عرش بھی تو رویا ہو گا۔ کیا ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے کوئی احساس ہے یا صرف ایک دوسرے پر تنقید کرتے رہیں گے۔ جب تک اس ملک کو قرآن کی شرعی سزاؤں کی طرف لے کر نہیں جائیں گے۔ جب تک ان لوگوں کو قرآن کے مطابق سزائیں نہیں دیں گے، ہر صوبے میں یہ ہوتا رہے گا، ان کو چوکوں میں پھانسی دینی چاہئے، قرآن کے مطابق سزائیں دینی چاہئیں۔ دس بندوں کو لٹکا دیں، میں دیکھتا ہوں کہ کون اس طرح کا جرم پھر کرتا ہے۔ قرآن سے مت ڈرو، انگریز کے قانون سے ڈرو، اللہ کے غضب سے ڈرو مگر اللہ سے پیار کرو اور اللہ کے نظام سے پیار کرو اور وہ کیسے ہو گا؟ یہ مسلم لیگ (ن) کر سکتی، نہ پیپلز پارٹی اور نہ پی ٹی آئی کر سکتی ہے، ہم سب نے مل کر کرنا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک ایسے معاملات پر نواز شریف، عمران خان، بلاول بھٹو زرداری، مولانافضل الرحمان اور اس طرح کے دیگر لیڈران اکٹھے نہیں ہوں گے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ہمارے بچے کو کوئی تھپڑ مار دے تو ہمیں نیند نہیں آتی، میں کل زینب کے والد سے ملا ہوں تو وہ شخص میرے کندھے پر سر رکھ کر رویا ہے اور کہتا ہے کہ اسے انصاف چاہئے۔ یقین کیجئے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا تھا کہ جس قتل کا قاتل نہ ملے، اس کا گنہگار اور ذمہ دار حکمران وقت ہے اور ہم سب حکمران وقت میں آتے ہیں۔ہم بھول جائیں گے،

سپیکر صاحب ہم بھول جائیں گے، زینب ہماری بچی حضرت زینب ؓ کیساتھ جنت میں ہو گی لیکن کیا ہم اپنی بچیوں کو ایسے ہی جنت میں پہنچاتے رہیں گے۔ میری یہ دعا ہے کہ اس طرح کی کوئی اور زینب پیدا نہ ہو لیکن اس کیلئے ہمیں اکٹھا ہونا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…