جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

درجن سے زائد خواتین کو چھریاں مارنے والے دسویں کلاس کے جنونی ملزم کو قتل کے مقدمہ میں جرم ثابت ہونے پر بڑی سزا سنادی گئی،خواتین پر حملے کیوں کرتاتھا؟ملزم کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) راولپنڈی کی مقامی عدالت نے درجن سے زائد خواتین کو چھریاں مارنے والے دسویں کلاس کے جنونی ملزم کو قتل کے مقدمہ میں جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور اقدام قتل کی دفعہ میں دس سال قید کی سزا سنادی۔راولپنڈی کے ایڈیشنل سیشن جج راجہ قمر سلطان نے تھانہ مورگاہ میں درج قتل اور اقدام قتل کیس کی سماعت کیسماعت کے دوران پولیس کی جانب سے ملزم محمد علی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے تمام گواہوں اور ثبوتوں کی روشنی میں ملزم کو قتل کی دفعہ میں عمر قید جبکہ اقدام قتل کی دفعہ میں دس سال قید کی سزا کا حکم سنادیا۔واضح رہے کہ ملزم پر الزام عائد تھا کہ اس نے خواتین پر چھریوں کے پے درپے وار کیے جس کے نتیجے میں فوجی فاؤنڈیشن اسپتال کی نرس انعم ناز قتل اور اسکی سہیلی ارم شہزادی زخمی ہو گئی تھی ٗمحکمہ انسداد دہشت گردی نے ملزم کو دو سال قبل اس وقت گرفتار کیا تھا جب ملزم گھر سے نان لینے کیلئے تندور پر پہنچا تھا ٗملزم کے ابتدائی بیان میں اس نے خواتین کو چھریوں کے وار سے زخمی کرنے کا اعتراف بھی کیا تھا۔ملزم نے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ وہ محبوبہ کی بیوفائی اور سوتیلی ماں کے ظلم کا بدلہ معصوم خواتین سے لیتا رہا ہے اور اس کا ہدف صرف خواتین کو نقصان پہنچانا تھا ٗملزم کے مطابق اسے گھر میں ناروا سلوک کا سامنا رہا اور سوتیلی ماں اور پھوپھیوں کے روئیے نے اسے جنونی بنا دیا تھا جس کے بعد وہ نفرت کی آگ میں جل رہا تھا۔ملزم کا کہنا تھا کہ وہ مغرب کے بعد گھرسے نکلتا تھا اور راستے میں اکیلی نظر آنے والی ہرخاتون پر حملہ کرتا۔یاد رہے کہ ملزم کو 12 اگست 2016 کو پیشہ ور خواتین پر چاقو سے حملہ کرنے کے الزام میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے کومبنگ آپریشن کے دوران 4 ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا۔  راولپنڈی کی مقامی عدالت نے درجن سے زائد خواتین کو چھریاں مارنے والے دسویں کلاس کے جنونی ملزم کو قتل کے مقدمہ میں جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور اقدام قتل کی دفعہ میں دس سال قید کی سزا سنادی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…